انوار خلافت — Page 185
۱۸۵ وہ اپنے دل میں اور ہی نظارہ کھینچے گا۔اور جو نہیں مانتا ہو گا وہ کچھ اور ہی۔لیکن اس قسم کے خیالی نظارے اکثر غلط ہوا کرتے ہیں۔اور لاکھ میں سے نانوے ہزار نو سو ننانوے غلط ہوتے ہیں۔تو اگر حضرت مسیح موعود کی نسبت یہ کہا جاتا کہ فلاں زمانہ میں ایک نبی آئے گا جوسب لوگوں کو ایک نقطہ پر بلائے گا۔تو بعض ختم نبوت کے خیال سے اس کا ایسا بھونڈ انقشہ بناتے جو دیکھنے کے قابل ہی نہ ہوتا۔اور بعض غلو کی راہ سے اسے کچھ اور کا اور ہی قرار دے لیتے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کا نمونہ بتادیا اور کہہ دیا کہ کرشن ہی آئے گا تا کہ کرشن کے ماننے والے سمجھ لیں کہ وہ اس طرح کا ہوگا۔یہ اسی طرح کیا گیا ہے جس طرح جب کسی کو قادیان کا نام بتا یا جائے تو ساتھ ہی یہاں کا نقشہ اور صحیح حالات بھی اس کے سامنے رکھ دیئے جائیں۔اس سے اس کو دھوکا نہیں لگے گا۔خدا تعالیٰ نے اسی بات کو مد نظر رکھ کر کہ لوگ جھوٹا نقشہ نہ بنالیں جس سے دھوکا کھا جائیں کچھ نبیوں کے نام ہی دوبارہ آنے کے لئے رکھ دیئے۔تا کہ اس طرح لوگ آسانی سے سمجھ لیں۔پس اب کوئی حضرت مسیح موعود کے متعلق جھوٹا نقشہ نہیں کھینچ سکتا کیونکہ اس کے سامنے پہلے نبیوں کے نقشے موجود ہیں۔پانچویں حکمت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی منشاء تھی کہ تمام لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک ہاتھ پر اور ایک جگہ جمع کر دے۔اور ایسا اس وقت تک ہو نہیں سکتا تھا جب تک کہ جس کے ذریعہ اکٹھا کیا جاتا اس سے لوگوں کو محبت اور انس نہ ہوتا۔دیکھو ایک راعی جب بکریوں کو بلاتا ہے تو سب دوڑی آتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ یہ ہمیں کوئی کھانے کی چیز دے گا یا آرام کی جگہ لے جائے گا۔اسی طرح مرنے اپنے پالنے والے کی آواز پر اکٹھے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ہمیں دانہ ڈالے گا۔اسی طرح کبوتر پالنے والا جب انہیں بلاتا ہے تو وہ بھاگے آتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ہمیں کھانے کو دے گا۔تو چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ تمام لوگوں کو ایک ہاتھ