انوار خلافت — Page 186
۱۸۶ پر اکٹھا کرے اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ اس ہاتھ والے سے سب کو محبت نہ ہو۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ان نبیوں کے نام جن سے انہیں پہلے ہی محبت اور الفت تھی ایک شخص کو دے دیئے۔ہندوؤں کو حضرت کرشن سے محبت تھی اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ یہ کرشن آ گیا ہے اس کے ہاتھ پر جمع ہو جاؤ۔مسیحیوں کو حضرت مسیح کے ساتھ محبت تھی اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ مسیح آگیا ہے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔مسلمانوں کو آنحضرت سال شما پیام سے محبت تھی اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ محمد آ گیا ہے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دو۔مسلمان لِيُظهِرة عَلَى الدِّينِ كُلّه کا نظارہ دیکھنے کے لئے منتظر تھے کہ محمد صل السلام کب مبعوث ہوں گے۔لیکن جب انہیں کہا جائے گا کہ لو تمہارے زمانہ میں محمد نازل ہو گیا ہے تو بہت خوش ہوں گے اور اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھیں گے کیونکہ جس بات کا شوق سے انتظار ہو اس کے پورا ہو جانے پر اسے شوق سے قبول بھی کیا جاتا ہے۔دیکھو حضرت مسیح نے اپنے بعد دونبیوں کے آنے کی پیشگوئی کی تھی۔ایک اپنے سے بڑے کی اور ایک اپنی ہی آمد ثانی کی لیکن مسیحی لوگ یہی کہتے ہیں کہ مسیح کب آئے گا۔اور وہ نبی“ جو تمام انبیاء کا موعود اور سب نبیوں کا سردار تھا با وجود اس کی پیشگوئی انجیل میں موجود ہونے کے مسیحی لوگ اس کی آمد کے خواہشمند نہیں میسیج کو خواہ کتنا ہی بڑا کہا جائے پھر بھی وہ آنحضرت صالنا السلام کا مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن مسیحیوں نے اس خوشی اور شوق سے آپ کا انتظار نہ کیا جس سے وہ مسیح کا انتظار کر رہے ہیں۔کیونکہ مسیح کو وہ اپنا نبی سمجھتے ہیں اور آنحضرت سلی دیپلم کو بیگانہ۔ان کی حالت اسی طرح کی ہے کہ ایک شخص کو کہا جائے کہ تمہیں بیٹا ملے گا پھر یہ کہا جائے تمہارا وہ بیٹا مرگیا ہے وہ دوبارہ زندہ ہو کر ملے گا۔تو اس شخص کو مردہ بیٹے کے زندہ ہوکر ملنے سے جو خوشی ہوگی وہ دوسرے کے ملنے سے نہ ہوگی۔چونکہ خدا تعالیٰ کا منشاء تھا کہ تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کر دے اس لئے ان کی محبت اور شوق کو جوش دلانے کے لئے ان کے نبیوں کے نام بتا دیئے