انوار خلافت — Page 184
۱۸۴ دینے سے نہایت وضاحت سے یہ بات پوری ہوگئی۔اور اگر حضرت کرشن یا حضرت بدھ یا حضرت مسیح یا آنحضرت صلی اینم کی کوئی ایک صفت بیان کر دی جاتی اور اس کا حضرت مسیح موعود کے متعلق ذکر ہوتا لیکن ان کی اور صفات کا ذکر حضرت مسیح موعود کے متعلق نہ ہوتا۔تو لوگ کہتے کہ صرف یہی صفت مسیح موعود میں پائی جاتی ہے اور کوئی صفت نہیں پائی جاتی لیکن خدا تعالیٰ نے پہلے انبیاء کے نام رکھ دیئے تاکہ ان کی الگ الگ صفتیں نہ گنانی پڑیں۔اور انجیل کا مطالعہ کرنے والے جو جو خوبیاں حضرت مسیح میں پائیں وہی مسیح موعود کی تسلیم کریں۔اور قرآن شریف کے پڑھنے والے جو جو صفات آنحضرت سال یا پیلم کی دیکھیں وہی مسیح موعود کی قرار دیں۔اسی طرح دوسرے انبیاء کی کتابیں پڑھنے والے جو کوئی خوبی بھی ان میں پائیں وہی مسیح موعود میں سمجھ لیں۔تو خدا تعالیٰ نے ان انبیاء کے نام ہی حضرت مسیح موعود کے متعلق بول دیئے۔تا کہ ان کی تمام کی تمام صفتیں آپ میں سمجھی جائیں۔چوتھی حکمت یہ ہے کہ اگر یوں کہہ دیا جاتا کہ ایک نبی آئے گا تو خواہ اس کی کتنی ہی تعریف کر دی جاتی پھر بھی اس کی اصل حقیقت نہ کھل سکتی۔کیونکہ جب تک کسی چیز کا نمونہ موجود نہ ہو اس وقت تک اس کی اصلیت معلوم نہیں ہو سکتی۔مثلاً ایسے لوگوں کو جنہوں نے قادیان کو نہیں دیکھا اس کا نام بتایا جائے تو کوئی یہ خیال کرلے گا کہ قادیان ایک بڑا شہر ہو گا فٹنیں اور موٹر کاریں چلتی ہوں گی سجے سجائے بازار ہوں گے سیر و تفریح کے بڑے سامان موجود ہوں گے۔اور کوئی یہ سمجھ لے گا کہ قادیان ایک چھوٹا سا گاؤں ہوگا پانچ دس شخص ہوں گے ایک پیر بیٹھا ہوگا طب و یا بس ہانک رہا ہوگا۔اور جس طرح اور سینکڑوں ہزاروں گدیاں ہیں اسی طرح وہ بھی ایک گدی ہوگی اس کے سوا اور وہاں رکھا ہی کیا ہو گا۔غرض جو انسان حضرت مسیح موعود کو مانتا ہوگا