انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 193

انوار خلافت — Page 119

119 انہوں نے ایک شعر ایسا بھی کہا ہے کہ اسی کے مضمون کے متعلق میں اس وقت تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور آکر قرآن سیکھو تا بعد میں آنے والوں کو سکھا سکو۔اگر تم اس کے لئے تیار نہ ہوئے تو یاد رکھو کہ ایک عرصہ تک تو بے شک تمہیں عزت حاصل ہوگی لیکن ایسا زمانہ آئے گا جبکہ تم خاک میں ملائے جاؤ گے۔اور تم سے آنے والے لوگ جن میں خشیت اللہ نہ ہوگی وہی سلوک کریں گے جو صحابہ کے ساتھ ان لوگوں نے کیا جو بعد میں آئے تھے کہ انہیں قتل کرا کر ان کی لاشوں پر تھوکا اور دفن نہ ہونے دیا۔دیکھو میں آدمی ہوں اور جو میرے بعد ہو گا وہ بھی آدمی ہی ہو گا جس کے زمانہ میں فتوحات ہوں گی وہ اکیلا سب کو نہیں سکھا سکے گا۔تم ہی لوگ ان کے معلم بنو گے۔پس اس وقت تم خود سیکھوتا ان کو سکھا سکو۔خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ دنیا کے لئے پروفیسر بنا دیئے جاؤ۔اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے اور بہت ضروری ہے کہ تم خود پڑھو تا آنے والوں کے لئے استاد بن سکو۔اگر تم نے خود نہ پڑھا تو ان کو کیا پڑھاؤ گے۔ایک نادان اور جاہل استاد کسی شاگرد کو کیا پڑھا سکتا ہے۔کہتے ہیں ایک استاد تھا اس نے چند خطوط پڑھے ہوئے تھے جو کوئی خط لا کر دیتا اسے انہیں خطوں میں سے کوئی ایک سنادیتا۔ایک دن ایک شخص خط لا یا اس وقت اس کے پاس اپنے پہلے خط موجود نہ تھے اس لئے نہ پڑھ سکا۔اور کہنے لگا کہ میں طاق والے خط پڑھ سکتا ہوں۔پس تم بھی اس خط کے پڑھنے والے کی طرح نہ بنو۔آپ لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اندر اخلاص اور خشیت پیدا کرو اور علم دین سیکھو اور اپنے دلوں کو مینقل کرو تا کہ جو لوگ تم میں آئیں ان کو تعلیم دے سکو اور ان میں خشیت اللہ پیدا کر سکو۔صحابہ کے وقت جوفتنہ ہوا تھا وہ اسی بات کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے۔اور انہوں نے قرآن شریف نہ پڑھا اور نہ سمجھا تھا۔اس لئے ان میں خشیت اللہ۔پیدا نہ ہوئی۔جس کا انجام یہ ہوا کہ انہوں نے صحابہ کو قتل کر کے اپنے پاؤں تلے روندا ان کی لاشوں