انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 193

انوار خلافت — Page 120

۱۲۰ کی بے عزتی کی۔اور انہیں مکانوں میں بند کر دیا۔اگر وہ مدینہ آتے اور اہل مدینہ سے تعلق رکھتے۔تو کبھی یہ فتنہ نہ ہوتا۔اور اگر ہوتا تو ایسی خطرناک صورت نہ اختیار کرتا۔اس فتنہ میں سارے مدینہ سے صرف تین آدمی ایسے نکلے۔جن کو مفسد اور شریر لوگ اپنے ساتھ ملا سکے۔اور ان کو بھی دھوکا اور فریب سے۔وہ ایک عمار بن یاسر تھے۔دوسرے محمد بن ابی بکر اور تیسرے ایک انصاری تھے۔چونکہ تم لوگ بھی صحابہ کے مشابہ ہو اس لئے میں چاہتا ہوں کہ تاریخ سے بیان کروں کہ کس طرح مسلمان تباہ ہوئے۔اور کون سے اسباب ان کی ہلاکت کا باعث بنے پس تم ہوشیار ہو جاؤ اور جو لوگ تم میں نئے آئمیں ان کے لئے تعلیم کا بندوبست کرو۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت جو فتنہ اٹھا تھا۔وہ صحابہ سے نہیں اٹھا تھا۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے اٹھا یا تھا ان کو دھوکا لگا ہے۔اس میں شک نہیں کہ حضرت علی کے مقابلہ میں بہت سے صحابہ تھے اور معاویہ کے مقابلہ میں بھی لیکن میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے بانی صحابہ نہیں تھے بلکہ وہی لوگ تھے جو بعد میں آئے اور جنہیں آنحضرت سلی شما پیلم کی صحبت نصیب نہ ہوئی اور آپ کے پاس نہ بیٹھے۔پس میں آپ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں اور فتنہ سے بچنے کا یہ طریق بتاتا ہوں کہ کثرت سے قادیان آؤ۔اور بار بار آؤ تا کہ تمہارے ایمان تازہ رہیں۔اور تمہاری خشیت اللہ بڑھتی رہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاول فرماتے تھے میں زمانہ طالب علمی میں ایک شخص کے پاس ملنے کے لئے جایا کرتا تھا۔کچھ عرصہ نہ گیا پھر جو گیا تو کہنے لگے کیا تم کبھی قصائی کی دکان پر نہیں گئے میں نے کہا قصائی کی دکان تو میرے راستہ میں پڑتی ہے ہر روز میں اس کے سامنے سے گذرتا ہوں۔انہوں نے کہا کیا تم نے کبھی قصائی کو نہیں دیکھا کہ وہ کچھ دیر گوشت کاٹ کر ایک چھری کو دوسری چھری پر پھیر لیتا ہے وہ ایسا اس لئے کرتا ہے کہ تا دونوں چھریاں تیز ہو جائیں۔اسی طرح جب ایک نیک آدمی دوسرے نیک آدمی سے ملتا ہے تو ان پر جو کوئی بداثر ہوتا ہے وہ دور ہو جاتا ہے۔پس تم لوگ بھی کثرت سے یہاں آؤ تا کہ نیک انسانوں سے ملو۔اور