انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 193

انوار خلافت — Page 98

۹۸ اگر کسی سے کوئی ایسی بات سنتا ہوں جو گورنمنٹ کے خلاف ہوتی ہے تو کانپ جاتا ہوں۔کیونکہ اس قسم کی کوئی بات کرنا بہت ہی نمک حرامی ہے یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ اگر یہ گورنمنٹ نہ ہوتی تو نہ معلوم ہمارے لئے کیا کیا مشکلات ہوتیں۔ابھی چند دنوں کا ہی ذکر ہے کہ ہمارے مالا بار کے احمدیوں کی حالت بہت تشویش ناک ہوگئی تھی ان کے لڑکوں کو سکولوں میں آنے سے بند کر دیا گیا۔ان کے مردے دفن کرنے سے روک دیئے گئے چنانچہ ایک مردہ کئی دن تک پڑا رہا۔مسجدوں سے روک دیا گیا۔تجارت کو بند کر دیا لیکن اس گورنمنٹ نے ایسی مدد کی ہے کہ اگر ہماری اپنی سلطنت بھی ہوتی تو بھی ہم اس سے زیادہ نہ کر سکتے۔اور وہ یہ کہ گورنمنٹ نے احمدیوں کی تکلیف دیکھ کر اپنے پاس سے زمین دی ہے کہ اس میں مسجد اور قبرستان بنالو۔لیکن وہاں کا راجہ اس پر بھی باز نہیں آیا اور اس نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ زمین تو میری ہے میں نہیں دیتا۔اور یہ بھی لکھا کہ خبر دار اگر تم نے اس پر کوئی عمارت بنائی تو سزا پاؤ گے۔اور یہ بھی کہا کہ تم لوگ حاضر ہوکر بتاؤ کہ کیوں تمہارا بائیکاٹ نہ کر دیا جائے کیونکہ علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔اس پر احمدیوں نے گورنمنٹ کی خدمت میں درخواست دی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے یہ حکم دیا کہ اگر اب احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتنے لیڈر ہیں ان سب کو نئے قانون کے ماتحت ملک بدر کر دیا جائے گا اس طرح کا حکم کسی کے مونہہ سے نہیں نکل سکتا مگر اسی کے مونہہ سے جس کے دل میں بنی نوع انسان کی ہمدردی ہو۔تو یہ تازہ سلوک اس گورنمنٹ نے تمہارے مالا باری بھائیوں کے ساتھ کیا ہے۔اور جو کسی کے بھائی پر احسان کرتا ہے وہ اسی پر کرتا ہے۔پس جب مالا باری احمدی ہمارے بھائی ہیں تو ہمیں گورنمنٹ کا کس قدر احسان مند ہونا چاہئے۔پھر ماریشس میں ہمارے ایک مبلغ گئے ہیں جو جہاں لیکچر دینا چاہتے غیر احمدی بند کر وا دیتے۔آخر انہوں نے گورنمنٹ سے سرکاری ہال کے لئے درخواست کی تو وہاں کے گورنر نے حکم دیا کہ آپ ہفتہ میں تین دن اس بال میں لیکچر دے سکتے ہیں۔گویا گورنمنٹ نے ہفتہ کے نصف دن ہمارے مبلغ کو دے دیئے اور نصف اپنے لئے رکھے۔