انوار خلافت — Page 99
۹۹ پس جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں مؤذن بنتا۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا۔تو والسیر ہوکر جنگ میں چلا جاتا۔اس وقت گورنمنٹ کو آدمیوں کی بہت ضرورت ہے۔اس لئے جس کسی سے کوئی خدمت ادا ہو سکے ضرور کرے۔اس جنگ سے تو ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہے۔ہمارے بہت سے احمدی احباب میدان جنگ میں گئے ہوئے ہیں لیکن خدا کا فضل ہے کہ ابھی تک ایک سے بھی فوت نہیں ہوا۔پھر وہ احباب جو فرانس کے میدان جنگ میں ہیں وہ تو تبلیغ کا کام بھی خوب کر رہے ہیں۔انہوں نے ٹیچنگز آف اسلام کا فرانسیسی میں ترجمہ کروا کر شائع کر دیا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی کئی ٹریکٹ فرانسیسی میں لکھا کر شائع کرائے ہیں۔پس اگر کوئی میدان جنگ میں جائے گا تو گویا گورنمنٹ کے خرچ پر ہمارا مفت کا مبلغ ہوگا۔اس لئے اگر کوئی جانا چاہے تو ضرور جائے بہت عمدہ کام ہے۔مجھ سے اب تک جتنے احمدیوں نے لڑائی پر جانے کے لئے پوچھا ہے میں نے بڑی خوشی سے انہیں اجازت دی ہے۔اور کہا ہے کہ اگر تم اس نیک نیتی سے جاؤ گے کہ ہم گورنمنٹ کی خدمت کرنے کے لئے جارہے ہیں اور ساتھ ہی دین کی تبلیغ بھی کریں گے تو خدا تعالیٰ تمہارا حافظ ہوگا اور تمہیں ہر ایک تکلیف سے محفوظ رکھے گا۔پس یہ گورنمنٹ کی مدد کا ایک موقعہ ہے جس کو خدا تعالی توفیق دے۔شامل ہو جائے۔(نوٹ) چونکہ نماز مغرب کا وقت بالکل قریب آ گیا تھا۔اس لئے حضرت خلیفہ مسیح نے تقریر کو یہاں ہی ختم کر دیا اور فرمایا کہ باتیں تو بہت تھیں لیکن وقت نہیں رہا اس لئے تقریر بند کرتا ہوں۔(مرتب کننده )