انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 193

انوار خلافت — Page 96

۹۶ احمدی ہی ہوا۔اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔پھر میں کہتا ہوں بچہ تو گنہگار نہیں ہوتا اس کو جنازہ کی ضرورت ہی کیا ہے۔بچہ کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے اس کے پسماندگان کے لئے اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں بلکہ غیر احمدی ہوتے ہیں۔اس لئے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔باقی رہا کوئی ایسا شخص جو حضرت صاحب کو تو سچا مانتا ہے لیکن ابھی اس نے بیعت نہیں کی یا احمدیت کے متعلق غور کر رہا ہے اور اسی حالت میں مرگیا ہے اس کو ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی سزا نہ دے۔لیکن شریعت کا فتویٰ ظاہری حالات کے مطابق ہوتا ہے اس لیے ہمیں اس کے متعلق بھی یہی کرنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔غیر احمدیوں کو لڑکی دینا ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمد یوں میں نہ دو۔آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا۔اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔باوجود یکہ وہ بار بار تو بہ کرتا رہا۔اب میں نے اس کی سچی تو بہ دیکھ کر قبول کر لی ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے کہا تھا کہ اگر آپ نے اپنے بعد عمر رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر کیا تو بڑا غضب ہوگا کیونکہ یہ بہت غصیلے ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ ان کا غصہ اسی وقت تک گرمی دکھاتا ہے جب تک کہ میں نرم ہوں۔اور جب میں نہ رہوں گا تو یہ خود نرم ہو جائیں گے۔اسی طرح میرا نفس تھا جو یہ کہتا تھا کہ اگر کوئی ذرا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم کے خلاف کرے تو اسے بہت سخت سزا دی جائے لیکن اب تو کچلا گیا ہے اور