انوار خلافت — Page 95
نے کہا آپ لوگوں کے بڑے دشمن ہیں جو یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں میں یہ نہیں مان سکتا کہ آپ ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں۔اس سے شیخ یعقوب علی صاحب باتیں کر رہے تھے۔میں نے ان کو کہا آپ کہہ دیں کہ واقعہ میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں یہ سنکر وہ حیران سا ہو گیا۔لیکن جب اس سے یہ پوچھا گیا کہ آپ جس مسیح کے آنے کے منتظر ہیں اس کے منکروں کو کیا کہتے ہیں۔تو کہنے لگا بس بس میں سمجھ گیا بے شک آپ کا حق ہے کہ ہم کو کافر سمجھیں۔پس تم لوگ دین کو اپنی جگہ پر رکھو اور دنیا کو اپنی جگہ پر۔اور جہاں دین کا معاملہ آئے وہاں فوراً الگ ہو جاؤ۔وہ لوگ جو اس بات سے چڑتے ہیں کہ ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے۔ان سے پوچھو کہ جب تمہارا مسیح آئے گا اور جو لوگ اسے نہیں مانیں گے ان کو کیا کہو گے۔یہی نا کہ ان کی گردن اڑا دو لیکن ہم تو کسی کی گردن نہیں اڑاتے ہم تو شریعت کا فتویٰ استعمال کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو کہو اگر تمہارے خیال میں ہم ایک جھوٹے مسیح کو مانتے ہیں تو پھر ہمارے جنازہ پڑھنے سے تمہارے مردہ کو فائدہ کیا ہوگا کیا جس صورت میں کہ ہم مسلمان ہی نہیں ہماری دعا سے آپ کا مردہ بخشا جاسکتا ہے۔پس اگر ان باتوں پر کوئی غور کرے تو کوئی لڑائی جھگڑ انہیں ہوسکتا۔اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے۔تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔وہ تو مسیح موعود " کا مکفر نہیں۔میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر