انوار خلافت — Page 88
۸۸ ہے۔بعض لوگوں نے اس کے معنی میاں یا بیوی کے کئے ہیں۔اور بعض نے جوڑا کئے ہیں۔لیکن عربی زبان میں زوج اس شے کو کہتے ہیں جس کے ملے بغیر ایک دوسری ھے نامکمل رہے۔جو تیوں کے جوڑا میں سے ہر ایک کو زوج کہتے ہیں کیونکہ صرف ایک جوتی کام نہیں دے سکتی۔پس خدا تعالیٰ نے میاں بیوی کا نام زوج رکھ کر بتایا ہے کہ بیوی کے بغیر میاں اور میاں کے بغیر بیوی کسی کام کی نہیں ہوتی۔پس جب مرد و عورت کا ایسا تعلق ہے تو غور کرنا چاہئے کہ عورتوں کو دین سے واقف کرنا کس قدر ضروری ہوا۔ہماری جماعت کے وہ لوگ جنہوں نے اپنی عورتوں کو دین سے واقف نہیں کیا ان کا تلخ تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے ان کے فوت ہو جانے کے بعد ان کے بیوی بچے غیر احمدی ہو گئے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے ان کو کچھ نہ سکھایا۔خاوندوں کی وجہ سے وہ احمدی ہوگئیں جب خاوند مر گیا تو انہوں نے بھی احمدیت کو چھوڑ دیا۔اگر کوئی عورت مرجائے تو خاوند اس کا جنازہ پڑھتا ہے۔لیکن نہیں جانتا کہ اس حالت میں جبکہ میں نے اپنی عورت کو دین سے واقف نہیں کیا میرا جنازہ پڑھنا کیا فائدہ دے گا۔مذہب اسلام کوئی ٹھٹھا نہیں بلکہ اس کی ہر ایک بات اپنے اندر حقیقت رکھتی ہے جنازہ بھی ایک حقیقت رکھتا ہے اس طرح نہیں کہ جنازہ پڑھا اور مرنے والا بخشا گیا جنازہ تو ایک دعا ہے جو نیک بندے مردہ کے لئے اس طرح کرتے ہیں کہ اے خدا! تیرا یہ انسان بہت نیکیاں کرتا رہا ہے لیکن اگر اس نے کوئی تیرا قصور بھی کیا ہے تو اسے ان نیکیوں کی وجہ سے بخش دے۔لیکن وہ شخص جو زندگی میں اپنی عورت کو دین سے ناواقف رکھتا ہے وہ کس مونہہ سے کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے بخش دے۔غرض بیویاں انسان کا آدھا دھڑ ہیں۔آنحضرت سلیم نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیویوں میں انصاف نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا آدھا دھڑ گرا ہوا ہوگا۔اس سے آپ نے بتایا ہے کہ عورت درحقیقت انسان کا جزو بدن ہے۔وہ شخص جو اپنی بیوی کوعلم نہیں پڑھاتا وہ بھی