انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 193

انوار خلافت — Page 87

۸۷ ان کے متعلق معلوم نہ ہوتا تو ہمارا آرام حرام ہو جا تا زندگی مشکل ہو جاتی اور جینا دوبھر معلوم ہوتا۔اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔او مردو! کیا تم اپنے آپ کو عورتوں سے بڑا سمجھتے ہو تم دونوں کو ہم نے ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے۔پھر تم کیوں ان کو اپنے سے علیحدہ سمجھتے ہو۔ان کو بھی اپنی طرح کا ہی سمجھو اور جو بات اپنے لئے ضروری خیال کرتے ہو وہی ان کے لئے کرو۔خدا تعالیٰ کے اس حکم کے ہوتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ مرد یہ تو کرے گا کہ عورت کو اچھے کپڑے پہنا دے عمدہ زیور بنوا دے لیکن وہ یہ خیال نہیں کرے گا کہ اس کو دین سکھانا بھی ضروری ہے۔کیا لوگ اچھے کپڑے میزوں اور کرسیوں پر نہیں ڈالتے۔اور کیا لوگ گھنگرو اپنے گھوڑوں کی گردنوں میں نہیں پہناتے۔پس جب ان حیوانوں اور بے جان چیزوں کی آرائش کے لئے بھی وہی کچھ کیا جاتا ہے تو عورتوں اور ان میں فرق کیا رہا۔درحقیقت جو شخص عورت کو صرف ظاہری زینت کا سامان دے کر سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا وہ عورت پر کوئی احسان نہیں کرتا اور نہ اس کا ہمدرد ہے بلکہ وہ خودا اپنی خوشی کا طالب ہے کیونکہ عورت کی زینت مرد کی خوشی کا باعث ہوتی ہے پس عورت کا صرف یہی حق نہیں کہ اس کے جسمانی آرام کا مرد خیال رکھے بلکہ اس سے زیادہ کی وہ حقدار ہے اس کا حق ہے کہ جس طرح انسان خود دین سے واقف ہو اسی طرح اسے بھی دین سے واقف کرے۔غرض دین کی تعلیم عورتوں کو بھی ضرور دینی چاہئے کیونکہ جب تک دونوں پہلو درست نہ ہوں اس وقت تک انسان خوبصورت نہیں کہلا سکتا۔کیا کانا آدمی بھی خوبصورت ہوا کرتا ہے۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اگر کسی کی ایک آنکھ جاتی رہے تو اسے برا معلوم ہوتا ہے۔لیکن بہت سے ایسے ہیں جو بیوی کی طرف سے کا نا بنے کو محسوس بھی نہیں کرتے۔میں تو باوجود اس کے کہ اور بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں گھر میں ضرور پڑھاتا ہوں کیونکہ عورتوں کو پڑھانا بہت ضروری ہے۔خدا تعالیٰ نے مرد و عورت کے لئے زوج کا لفظ رکھا