انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 193

انوار خلافت — Page 34

۳۴ بھی ضرور تھے۔پس ان چند مقامات سے یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ نام نہیں بلکہ صفت آئی ہے لیکن کثرت سے احمد کر کے پکارنا صاف دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں بھی آپ کا نام احمد تھا۔ورنہ تعجب ہے کہ آنحضرت مالی ایلام کا نام احد تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ بھی ان کو اس نام سے یاد نہ کیا۔اور حضرت مسیح موعود کا نام احمد نہ تھا بلکہ غلام احمد تھا لیکن احمد نام سے آپ کو بار بار پکارا گیا۔اور شاذ و نادر طور پر غلام احمد کے نام سے ( وہ بھی جہاں تک مجھے یاد ہے کہ غلام احمد کہہ کر آپ کو الہام میں کبھی مخاطب نہیں کیا گیا۔ہاں اس قسم کے الہامات میں غلام احمد کی جے ) یاد کیا۔اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ نعوذ باللہ اصل نام کو ترک کر دیتا ہے اور دوسرے نام سے یا اس نام سے جس کا پیشگوئی میں ذکر نہ ہو انسان کو پکارتا ہے۔چاہئے تو یہ کہ اس نام سے پکارا جائے جس کا پیشگوئی میں خاص طور پر ذکر ہو۔تا کہ لوگوں کو اس طرف توجہ ہو۔ساتواں ثبوت پھر آپ کا نام احمد ہونے پر حضرت خلیفہ اول کی بھی شہادت ہے آپ اپنے رسالہ مبادی الصرف والنحو میں لکھتے ہیں کہ محمدصلی ایام خاص نام ہمارے سید ومولی خاتم النبین کا ہے۔مکہ خاص شہر کا نام ہے جس میں ہمارے نبی کریم صلی یمن کا تو تد ہوا۔احمد نام ہمارے اس امام کا ہے جو قادیان سے ظاہر ہوا اور حضرت خلیفہ اول تو وہ انسان تھے جن کی طہارت اور تقویٰ کے غیر مبائعین بھی قائل ہیں۔پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ جھوٹ بولا۔یا یہ کہ حضرت خلیفہ اول کو حضرت صاحب کا نام بھی معلوم نہ تھا۔آٹھواں ثبوت خود غیر مبائعین بلکہ ان کی متفقہ انجمن کا ہے۔اور اس شہادت سے زیادہ غیر مبائعین کے