انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 193

انوار خلافت — Page 35

۳۵ لئے اور کونسی شہادت معتبر ہو سکتی ہے؟ جو ان کی صدر انجمن نے دی ہے وہ شہادت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے الوصیت کے صفحہ ۸ پر لکھا ہے کہ: اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں الوصیت ص ۸ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۶) اس حکم کے ماتحت انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے جو الفاظ بیعت شائع ہوئے ہیں ان کی عبارت یہ ہے: آج میں محمد علی کے ہاتھ پر احمد کی بیعت میں داخل ہو کر اپنے تمام گناہوں سے تو بہ کرتا ہوں“ اس عبارت کو پڑھ کر ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ الوصیت کے اس حکم کی کہ میرے نام پر بیعت لیں۔انجمن اشاعت اسلام نے یہ تاویل کی ہے کہ احمد کے نام پر لوگوں کی بیعت لینی شروع کی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود کا نام احمد نہیں تو میرے نام پر بیعت لینے کا حکم کس طرح پورا ہوا۔اور اگر آپ کا نام احمد ہے جیسا کہ ان الفاظ بیعت سے ظاہر ہے تو پھر اس بات پر بحث کیوں ہے کہ حضرت صاحب کا نام احمد نہ تھا اور کیوں جو الزام ہم پر دیا جاتا ہے اس کے خود مرتکب ہورہے ہیں اور کیوں غلام احمد کو احمد بنا رہے ہیں لیکن ہر ایک شخص جو تعصب سے خالی ہو کر اس امر پر غور کرے سمجھ سکتا ہے کہ در حقیقت ہمارے مخالفین کے دل بھی یہی گواہی دے رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا۔اور ہم پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں وہ صرف دکھانے کے دانت ہیں اور ان کے کھانے کے دانت اور ہیں۔نواں ثبوت نواں ثبوت حضرت مسیح موعود کا نام احمد ہونے کا یہ ہے کہ خود آپ نے اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔چنانچہ آپ ازالہ اوہام جلد ۲ صفحہ ۳۶۳ میں تحریر فرماتے ہیں: