انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 193

انوار خلافت — Page 128

۱۲۸ کے لئے مناسب ہوسکتا ہے چنانچہ اس نے مصر میں ہی رہائش اختیار کی اور لوگوں کو اکسانا شروع کیا۔ادھر تو یہ فتنہ شروع تھا ادھر چند اور فتنے بھی پیدا ہور ہے تھے اور ان کے بانی بھی وہی لوگ تھے جو بعد میں مسلمان ہوئے تھے اور مدینہ سے ان کا تعلق بالکل نہ تھا اس لئے ان کی تربیت نہ ہو سکتی تھی۔چنانچہ جس طرح بصرہ میں حکیم بن جبلہ عبداللہ بن سبا کے ساتھ مل کر یہ شرارتیں کر رہا تھا۔کوفہ میں بھی ایک جماعت اسی کام میں لگی ہوئی تھی۔سعید بن العاص گورنر کوفہ تھے اور ان کی صحبت اکثر ذی علم لوگوں کے ساتھ رہتی تھی۔مگر کبھی کبھی تمام لوگوں کو وہ اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تھے تاکل حالات سے باخبر رہیں۔ایک دن ایسا ہی موقعہ تھا با تیں ہورہی تھیں۔کسی نے کہا فلاں شخص بڑا سخی ہے سعید بن العاص نے کہا کہ میرے پاس دولت ہوتی تو میں بھی تم لوگوں کو دیتا۔ایک بیچ میں بول پڑا کہ کاش آل کسری کے اموال تمہارے قبضہ میں ہوتے۔اس پر چند نو مسلم عرب اس سے لڑ پڑے اور کہا کہ یہ ہمارے اموال کی نسبت خواہش کرتا ہے کہ اس کو مل جائیں۔سعید بن العاص نے سمجھایا تو اس نے کہا کہ تم نے اس کو سکھایا ہے کہ ایسی بات کہے اور اٹھ کر اس شخص کو مارنے لگے اس کی مدد کے لئے اس کا باپ اٹھا تو اسے بھی ماراحتیٰ کہ دونوں بیہوش ہو گئے۔جب لوگوں کو علم ہوا کہ اس قسم کا فساد ہو گیا ہے تو وہ قلعہ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔مگر سعید بن العاص نے ان کو سمجھا کر ہٹا دیا کہ کچھ نہیں سب خیر ہے اور جن لوگوں کو مار پڑی تھی انہیں بھی منع کر دیا کہ تم اس بات کو مشہورمت کرنا خواہ مخواہ فساد پڑے گا۔اور آئندہ سے اس فسادی جماعت کو اپنے پاس آنے سے روک دیا۔جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں والی اپنے پاس نہیں آنے دیتا تو انہوں نے لوگوں میں طرح طرح کے جھوٹ مشہور کرنے شروع کر دیئے اور دین اسلام پر طعن کرنے لگے۔اور مختلف تدابیر سے لوگوں کو دین سے بدظن کرنے کی کوشش شروع کی۔اس پر لوگوں نے