انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 193

انوار خلافت — Page 129

۱۲۹ حضرت عثمان سے شکایت کی اور آپ نے حکم دیا کہ ان کو کوفہ سے جلا وطن کر کے شام بھیج دیا جائے۔اور حضرت معاویہؓ کو لکھ دیا کہ ان کی خبر رکھنا۔حضرت معاویہؓ نے نہایت محبت سے ان کو رکھا اور ایک دن موقعہ پا کر ان کو سمجھایا کہ رسول کریم صلی یا پی ایم کی آمد سے پہلے عرب کی کیا حالت تھی اسے یاد کرو اور غور کرو کہ خدا تعالیٰ نے قریش کے ذریعہ سے تم کو عزت دی ہے پھر قریش سے تمہیں کیوں دشمنی ہے ( وہ لوگ اس بات پر بھی طعن کرتے تھے کہ خلیفہ قریش میں سے کیوں ہوتے ہیں قریشیوں نے خلافت کو اپنا حق بنا چھوڑا ہے یہ نا جائز ہے ) اگر تم حکام کی عزت نہ کرو گے تو یا درکھو جلد وہ دن آتا ہے کہ خدا تعالیٰ تم پر ایسے لوگوں کو مقرر کرے گا جو تم کو خوب تکلیف دیں گے۔امام ایک ڈھال ہے جو تم کو تکلیف سے بچاتا ہے۔انہوں نے کہا کهہ قریش کا کیا احسان ہے کیا وہ کوئی بڑی جماعت تھی جن کے ذریعہ سے اسلام کامیاب ہو گیا اور باقی رہا کہ امام ڈھال ہے اور ہمیں تکلیف سے بچا رہا ہے۔سو یہ خیال مت کرو جب وہ ڈھال ٹوٹ جائے گی تو پھر ہمارے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔یعنی خلافت اگر قریش کے ہاتھ سے نکل جائیگی تو پھر ہم ہی ہم اس کے وارث ہیں اس لئے ہمیں اس کا فکر نہیں کہ خلافت قریش کے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کیا ہوگا۔اس پر حضرت معاویہؓ نے ان کو سمجھایا کہ ایام جاہلیت کی سی باتیں نہ کر و اسلام میں کسی قوم کا زیادہ یا کم ہونا موجب شرف نہیں رکھا گیا۔بلکہ دیندار و خدا رسیدہ ہونا اصل سمجھا گیا ہے۔پس جبکہ قریش کو خدا تعالیٰ نے جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں ممتاز کیا۔اور ان کو دین کی اشاعت و حفاظت کا کام سپرد کیا ہے تو تم کو اس پر کیا حسد ہے اور تم لوگ اپنی پہلی حالت کو دیکھو اور سوچو کہ اسلام نے تم لوگوں پر کس قدر احسانات کئے ہیں۔ایک وہ زمانہ تھا کہ تم اہل فارس کے کارندہ تھے اور بالکل ذلیل تھے اسلام کے ذریعہ سے ہی تم کو سب عزت ملی۔لیکن تم نے بجائے شکریہ ادا کرنے کے ایسی باتیں شروع کر دی ہیں جو اسلام کے لئے ہلاکت کا باعث ہیں تم شیطان کا ہتھیار بن گئے ہو وہ جس