انوار خلافت — Page 127
۱۲۷ شرارتوں کا حال حضرت عثمان کولکھا تو آپ نے اس کے نظر بند کرنے کا حکم دیا اور بصرہ سے باہر جانے کی اسے ممانعت کر دی گئی اس پر اس نے خفیہ شرارتیں اور منصوبے شروع کئے۔چنانچہ ۲۳ ھ میں اس کے گھر پر عبد اللہ بن سبامہمان کے طور پر آکر اترا۔اور لوگوں کو بلا کر ان کو ایک خفیہ جماعت کی شکل میں بنانا شروع کیا اور آپس میں ایک انتظام قائم کیا۔جب اس کی خبر والی کوملی تو اس نے اس سے دریافت کیا کہ تو کون ہے تو اس نے کہلا بھیجا کہ میں ایک یہودی ہوں اسلام سے مجھے رغبت ہے اور تیری پناہ میں آکر رہا ہوں۔چونکہ اس کی شرارتوں کا علم گورنر کو ہو چکا تھا انہوں نے اسے ملک بدر کر دیا۔یہ پہلا واقعہ ہے جو تاریخ عبداللہ بن سبا کی سیاسی شرارتوں کے متعلق ہمیں بتاتی ہے اور اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حکیم بن جبلہ بھی سچے دل سے مسلمان نہ تھا اور اس کا ذمیوں پر حملہ کرنا اس لئے نہ تھا کہ غیر مسلموں سے اسے دشمنی تھی۔بلکہ غیر مسلموں کو اسلامی حکومت کے خلاف بھڑ کانے کے لئے وہ ڈاکہ مارتا تھا جیسا کہ آج کل بنگالہ کے چند شریر ہندوستانی آبادی پر ڈاکہ مارتے ہیں۔اور ان کی غرض صرف اس قدر ہوتی ہے کہ عام آبادی انگریزی حکومت کو نا قابل سمجھ کر اس سے بگڑ جائے۔اور یہ نتیجہ اس بات سے نکلتا ہے کہ عبداللہ بن سبا ایک یہودی جو دل سے اسلام کا دشمن تھا اسی کے پاس آکر ٹھہرا ہے اگر حکیم سچا مسلمان ہوتا اور غیر مسلموں کا دشمن تو کبھی عبداللہ بن سبا جو دل سے اسلام کا دشمن تھا سب بصرہ میں سے اس کو نہ چنا بلکہ اسے اپنا دشمن خیال کرتا۔- جب عبداللہ بن سبا بصرہ سے نکالا گیا تو کوفہ کو چلا گیا۔اور وہاں ایک جماعت اپنے ہم خیالوں کی پیدا کر کے شام کو گیا لیکن وہاں اس کی بات کسی نے نہ سنی۔اس لئے وہ وہاں سے مصر کو چلا گیا۔مصری لوگ تازہ مسلمان تھے۔ان میں ایمان اس قدر داخل نہ ہوا تھا۔جیسا کہ دیگر بلاد کے باشندوں میں پھر مدینہ سے زیادہ دور تھے اور مرکز سے تعلق کم تھا اس لئے بہت کثرت سے اس کے فریب میں آگئے۔اور عبداللہ بن سبا نے دیکھ لیا کہ مصر ہی میرے قیام