انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 193

انوار خلافت — Page 125

۱۲۵ ہو گیا ہے۔ایک دن مجھے آپ نے ایک مکان میں بلا کر فرمایا۔محمود دیکھو یہ دھوپ کیسی زردی معلوم ہوتی ہے۔چونکہ مجھے ویسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسی کہ ہر روز دیکھتا تھا۔میں نے کہا نہیں اسی طرح کی ہے جس طرح کی ہر روز ہوا کرتی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں یہاں کی دھوپ کچھ زرد اور مدھم سی ہے۔قادیان کی دھوپ بہت صاف اور عمدہ ہوتی ہے۔چونکہ آپ نے قادیان میں ہی دفن ہونا تھا۔اس لئے آپ نے یہ ایک ایسی ہی بات فرمائی جس سے قادیان سے آپ کی محبت اور الفت کا پتہ لگتا تھا۔کیونکہ جب کہیں سے جدائی ہونے لگتی ہے تو وہاں کی ذراذرا چیز سے بھی محبت اور الفت کا خیال آتا ہے۔تو اس جگہ کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی خدا کے مسیح کو وہ الفت تھی جس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے تمہیں ایک سلک میں منسلک کر دیا ہے اور تم ایک لڑی میں پروئے گئے ہو۔خدا تعالیٰ نے تمہیں اتفاق و اتحاد کی مضبوط چٹان پر کھڑا کر دیا ہے۔اس لئے یہاں صرف مقام ہی کی برکتیں نہیں بلکہ اتحاد کی برکتیں بھی ہیں۔لیکن میں کہتا ہوں اگر خدانخواستہ اتحاد نہ بھی ہو تو بھی یہاں آنا بہت ضروری ہے۔ورنہ وہ شخص جو یہاں نہیں آتا۔یادر کھے کہ اس کا ایمان خطرہ میں ہے۔پس وہ لوگ جو پرانے ہیں اور وہ بھی جو نئے ہیں یہاں بار بار آئیں۔میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ ان کے یہاں آنے جانے کے روپے ضائع نہیں جائیں گے بلکہ خدا تعالیٰ انہیں واپس کر دے گا۔اور بڑے نفع کے ساتھ واپس کرے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کسی کا حق نہیں مارتا۔اسے بڑی غیرت ہے اور اس معاملہ میں وہ بڑا غیور ہے۔دیکھو اس میں اتنی غیرت ہے کہ جب مؤذن کھڑا ہو کر اذان میں کہتا ہے۔حَتى عَلَى الصَّلوة کہ اے لوگو نماز کا وقت ہو گیا ہے نماز کے لئے آؤ۔تو خدا تعالیٰ اتنا برداشت نہیں کر سکتا کہ اس آواز سے لوگ یہ خیال کر کے آئیں کہ چلو خدا کا حکم ہے مسجد میں چلیں۔اور اس طرح ایک طرح کا احسان جتائیں۔اس لئے ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ حَتی عَلَی الْفَلَاحِ کسی کا نماز پڑھنے کے لئے آنا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے اگر کوئی نماز پڑھے گا تو خود ہی فلاح حاصل کرے گا۔تو جولوگ خدا