انوار خلافت — Page 126
۱۲۶ تعالیٰ کے لئے اپنا مال خرچ کریں گے اس کی رضامندی کے لئے اپنا وطن چھوڑیں گے اس کی رضا کے لئے سفر کی تکلیفیں برداشت کریں گے۔ان کی یہ باتیں ضائع نہیں جائیں گی۔بلکہ وہ اس درجہ کو پائیں گے کہ خدا ان کا ہاتھ ، خدا ان کی زبان، خدا ان کے کان ، اور خدا ان کے پاؤں ہو جائے گا۔اور جو کچھ وہ اس راستہ میں ڈالیں گے وہ بیج ہو گا جو انہیں کئی گنا ہو کر واپس ملے گا۔پس کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ قادیان آنا خرچ کرنا ہے یہ خرچ کرنا نہیں بلکہ برکتیں حاصل کرنا ہے۔دیکھو کھیتی میں بیج ڈالنے والا بھی بیج کو خرچ کرتا ہے لیکن اس سے گھبراتا نہیں بلکہ امید رکھتا ہے کہ کل مجھے بہت زیادہ ملے گا۔پس تم بھی یہاں آنے جانے کے اخراجات سے نہ گھبراؤ۔خدا تعالیٰ تمہیں اس کے مقابلہ میں بہت بڑھ کر دے گا۔پس تمہارے یہاں آنے میں کوئی چیز روک نہ ہو اور کوئی بات مانع نہ ہوتا کہ تم اپنے دین اور ایمان کو مضبوط کر لو۔اور اپنے میں آنے والوں سے پہلے ان کے لینے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اور اگر آنے والے ہزاروں ہوں تو تم بھی ہزاروں ہی ان کے لینے کے لئے موجود رہو۔اس بات کو خوب ذہن نشین کر کے اس پر عمل کرو۔صحابہ کا بڑا تلخ تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کیسی درد ناک مصیبت ان پر آئی تھی۔اور کس قدر مصائب اور آلام کا وہ نشانہ بنے تھے۔یہ فساد جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے صحابہ سے پیدا نہیں ہوا تھا۔بلکہ ان لوگوں نے کیا تھا جو مدینہ میں نہیں آتے تھے۔اور صحابہ میں شامل نہ تھے۔چنانچہ اس فساد کا بانی مبانی ایک شخص عبداللہ بن سبا تھا۔اس کی ابتدائی زندگی کا حال تو معلوم نہیں ہوتا کہ سیاست کے ساتھ اس کو کیا تعلق تھا لیکن تاریخ میں اس کا ذکر حکیم بن جبلہ کے ساتھ آتا ہے۔حکیم بن جبلہ ایک چور تھا جب فارس پر چڑھائی ہوئی تو یہ بھی صحابہ کے لشکر میں شامل تھا۔لشکر کی واپسی پر یہ راستہ میں غائب ہو گیا۔اور غیر مسلموں پر حملہ کر کے ان کے اموال لوٹ لیا کرتا تھا اور بھیس بدل کر رہتا تھا۔جب غیر مسلم آبادی اور مسلم آبادی نے اس کی