انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 193

انوار خلافت — Page 124

۱۲۴ دریا تک جو یہاں سے سات آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے پھیل جائے گا۔چنانچہ ایک میل تک تو اس تھوڑے سے عرصہ میں ہی پھیل گیا ہے۔قاعدہ ہے کہ ابتداء میں ہر ایک چیز آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے اور کچھ عرصے کے بعد یک لخت بہت بڑھ جاتی ہے۔مثلاً بچہ پہلے تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے لیکن ایک وقت میں یک لخت بڑھ جاتا ہے۔تو یہ قادیان کی ابتدائی ترقی ہے اس سے اس کی انتہائی ترقی کا اندازہ کر لو۔غرض قادیان کی ہر ایک چیز ہر ایک درخت ہر ایک اینٹ ہر ایک مکان نشان ہے۔بہشتی مقبرہ ، حضرت صاحب کا باغ، بورڈنگ سکول ،مسجد میں وغیرہ سب حضرت صاحب کا معجزہ ہیں اور یہاں کی گلیاں بھی بہت بابرکت ہیں کیونکہ ان میں خدا کا مسیح چلا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ مکہ اور مدینہ کیوں اب بھی بابرکت ہیں۔ان میں کیا ایسی چیز ہے جو کسی اور جگہ نہیں ہے۔وہ یہ کہ مکہ کی بنیاد حضرت ابراہیم جیسے برگزیدہ انسان نے رکھی۔اور مدینہ میں رسول کریم ملای سی یہ رونق افروز رہے لیکن اب کیا وہاں رسول اللہ موجود ہیں۔پھر کیوں اس کی عزت اور توقیر کی جاتی ہے۔اور رسول اللہ نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ میری مسجد میں نماز پڑھنے والے کو بہ نسبت کسی اور مسجد میں پڑھنے والے کے زیادہ ثواب ہوگا حالانکہ وہاں رسول اللہ کیا آپ کے صحابہؓ بھی نہیں ہیں اور اب تو وہاں ایسے علماء رہتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود پر بھی کفر کا فتوی لگا دیا مگر چونکہ وہاں آنحضرت سائلہ پیہم کے قدم پڑے تھے اس لئے وہ اب بھی مقدس اور مطہر ہی ہے۔پھر مکہ کو دیکھو وہاں نہ حضرت ابراہیم ہیں اور نہ حضرت اسماعیل۔اور نہ ہی ان کے صحابہ موجود ہیں۔مگر چونکہ ان کے متبرک انسانوں نے اس کی بنیاد رکھی تھی اس لئے باوجود اس وقت ان کے وہاں موجود نہ ہونے کے مکہ ویسا ہی متبرک ہے۔تو جن مقاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا تعلق ہوتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے متبرک بنادیئے جاتے ہیں۔قادیان بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے۔یہاں خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ مبعوث ہوا اور اس نے یہاں ہی اپنی ساری عمر گزاری۔اور اس جگہ سے وہ بہت محبت رکھتا تھا۔چنانچہ اس موقعہ پر جبکہ حضرت مسیح موعود لاہور گئے ہیں۔اور آپ کا وصال