انوار خلافت — Page 102
۱۰۲ لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آیا تھا۔گمراہ اور بے دین لوگوں کو باخدا بنانے آیا تھا۔گناہوں اور بدیوں میں گرفتار شدہ انسانوں کو پاک وصاف کرنے آیا تھا۔اور جس کا درجہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے قُل اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران : ۳۲) سب لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ تم خدا تعالیٰ کے محبوب اور پیارے بن جاؤ گے۔پھر وہ جس کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( الاحزاب : ۲۲) کہ اس رسول میں تمہارے لئے پورا پورا نمونہ ہے۔اگر تم خدا کے حضور مقبول بننا چاہتے ہو۔اگر تم خدا سے تعلق پیدا کرنا پسند کرتے ہو تو اس کا آسان طریق یہ ہے کہ اس رسول کے اقوال، افعال اور حرکات وسکنات کی پیروی کرو۔کیا اس قسم کا انسان تھا کہ وہ بھی گناہ کرتا تھا اور اسے بھی استغفار کرنے کی ضرورت تھی۔جس رسول کی یہ شان ہو کہ اس کا ہر ایک قول اور فعل خدا کو پسندیدہ ہو کس طرح ہوسکتا ہے کہ اس کی نسبت یہ کہا جائے کہ تو اپنے گناہوں کی معافی مانگ۔اگر وہ بھی گناہ گار ہوسکتا ہے تو خدا تعالیٰ نے اس کی اتباع کی دوسروں کو کیوں ہدایت فرمائی ہے۔ہم اس بات کو ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ ہر ایک قسم کی بدی اور گناہ سے پاک تھے۔یہی تو وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے لوگو! اگر تمہیں مجھ سے محبت کا دعویٰ ہے اور میرے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے کہ تم اس رسول کی اتباع کرو۔ورنہ ممکن نہیں کہ تم میرے قرب کی کوئی راہ پا سکو۔پس آنحضرت سیلی می بینم کی طرف کسی گناہ کا منسوب کرنا تعلیم قرآن کے بالکل خلاف ہے مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ پھر آپ کے متعلق یہ کیوں آیا ہے کہ تو استغفار کر۔استغفار کر۔یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ انہی الفاظ کو مد نظر رکھ کر عیسائی صاحبان بھی مسلمانوں پر ہمیشہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا۔کیونکہ قرآن