انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 193

انوار خلافت — Page 101

1+1 میں بہت ضروری ہے اور آج وقت بھی مل گیا ہے اس لئے اسی حصہ کو بیان کرتا ہوں۔وہ دوسرا حصہ جس کو میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں۔اس کے متعلق میں نے ایک مختصر سی سورۃ پڑھی ہے۔جو گو عبارت کے لحاظ سے بہت مختصر ہے لیکن مضامین کے لحاظ سے بہت وسیع باتیں اپنے اندر رکھتی ہے اور حکمت اور معرفت کے بڑے بڑے دریا اس کے اندر بہہ رہے ہیں۔نیز اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ بات بتائی ہے کہ اگر وہ اس پر غور وفکر اور عمل درآمد کرتے تو ان پر وہ ہلاکت اور تباہی کبھی نہ آتی جو آج آئی ہوئی ہے۔اور نہ مسلمان پراگندہ ہوتے۔نہ ان کی حکومتیں جاتیں۔نہ اس قدر کشت و خون کی نوبت پہنچتی اور نہ ان میں تفرقہ پڑتا۔اور اگر پڑتا تو اتنا جلدی اور اس عمدگی سے زائل ہو جا تا کہ اس کا نام ونشان بھی باقی نہ رہتا لیکن افسوس کہ ان میں وہ تفرقہ پڑا جو باوجود گھٹانے کے بڑھا اور باوجود دبانے کے اٹھا اور باوجو د مثانے کے ابھرا اور آخر اس حد تک پہنچ گیا کہ آج مسلمانوں میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فرقے موجود ہیں۔کیونکہ وہ بند جس نے مسلمانوں کو باندھا ہوا تھا کاٹا گیا۔اور اس کے جوڑنے والا کوئی پیدا نہ ہوا۔بلکہ دن بدن وہ زیادہ سے زیادہ ہی ٹوٹتا گیا۔حتی کہ تیرہ سو سال کے دراز عرصہ میں جب بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے پاس سے ایک شخص کو اس لئے بھیجا کہ وہ آکر اس کو جوڑے۔اس فرستادہ خدا سے پہلے کے تمام مولویوں، گدی نشینوں ، بزرگوں اور اولیاؤں نے بڑی بڑی کوششیں کیں مگر اکارت گئیں۔اور اسلام ایک نقطہ پر نہ آیا۔پر نہ آیا۔اور کس طرح آسکتا تھا جبکہ اس طریق سے نہ لایا جاتا جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا تھا یعنی کسی مامور من اللہ کے ذریعے سے۔غرض اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے رسول کریم سانی پیلم کو ایک آنے والے فتنہ پر آگاہ فرمایا ہے اور اس سے بچنے کا علاج بھی بتایا ہے۔اس سورۃ میں آنحضرت صلی یا پیام کوتاکید کی گئی ہے کہ آپ استغفار کریں۔چونکہ استغفار کے معنی عام طور پر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے ہوتے ہیں۔اس