انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 193

انوار خلافت — Page 103

۱۰۳ اس کو حکم دیتا ہے کہ تو استغفار کر لیکن ہمارے مسیح کی نسبت قرآن میں یہ کہیں نہیں آیا۔پس معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ کرتا تھا۔اور بعض جگہ تو تمہارے رسول کی نسبت ذنب کا لفظ بھی آیا ہے تو معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا اور ہمارا مسیح گناہوں سے پاک۔اس سے ثابت ہو گیا کہ مسیح کا درجہ اس سے بہت بلند ہے۔اس اعتراض کے جواب میں مسلمانوں کو بڑی دقت پیش آئی ہے اور گوانہوں نے جواب دینے کی بڑی کوشش کی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے اس کا جواب دینے میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔یہی وجہ تھی کہ ہزارہا مسلمانوں کی اولا د عیسائی ہوگئی اور تو اور سیدوں کی اولادوں نے بھی بپتسمہ لینا پسند کر لیا اور وہ اب سٹیجوں پر کھڑے ہو کر آنحضرت سال یا پیلم کو گالیاں دیتے ہیں۔غرض ان الفاظ کی وجہ سے نادانوں نے دھوکا کھایا۔اور بجائے اس کے کہ عیسائیوں کو جواب دیتے خود عیسائی بن گئے۔قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ آنحضرت صلی شام کی نسبت ان معنوں کے لحاظ سے استعمال نہیں کیا گیا جن معنوں میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔آپ کے متعلق اور معنوں میں استعمال ہوا ہے اور یہ بات اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت میبینم کی نسبت ذنب کا لفظ قرآن شریف میں تین جگہ آیا ہے۔اول سورہ مومن میں جہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ بِالْعَشِي وَالْإِبْكَارِ (المؤمن : ۵۶ ) دوم سورہ محمد میں یوں آیا ہے فَاعْلَمُ أَنَّهُ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ، وَاللهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوبِكُمْ ( محمد :۲۰) سوم سورہ فتح میں آیا ہے إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (الفتح ۲ - ۳) اسی طرح بعض جگہ پر استغفار کا لفظ آپ کی نسبت استعمال ہوا ہے جیسا کہ اسی سورۃ میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔ان سب جگہوں پر اگر