اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 529 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 529

529 دوسری دیوار کو گرا دیتا ہے۔آج ایک چھت اڑا تا ہے تو کل دوسری چھت کو اڑا دیتا ہے۔آج ایک کمرے کو گراتا ہے تو کل دوسرے کمرے کو گرا دیتا ہے۔اسی طرح وہ آہستہ آہستہ اور قدم بقدم دنیا کی تمام عمارتوں اور دنیا کے تمام مکانوں اور دنیا کے تمام سامانوں کو گرا رہا، مٹارہا اور تباہ و برباد کر رہا ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ وہ اس وقت تک ان عمارتوں کو مکمل طور پر بر باد نہ کرے جب تک خدا تعالیٰ کے کالج میں جو لوگ تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ اس کالج سے تعلیم حاصل کر کے فارغ نہ ہو جائیں اور ان پر قبضہ کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔“ یہ اس رپورٹ کے صفحہ 147-148 کی عبارت ہے۔حافظ محمد نصر اللہ صاحب : مولانا صاحب! آج دنیا میں صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جو قانون کی پابند ہے اور جیسا کہ ابھی ضیاء الحق کے بدنام زمانہ آرڈینینس کے حوالہ سے بھی بیان فرمایا کہ پاکستانی قانون کے لحاظ سے جماعت احمدیہ کو تبلیغ کی بھی پابندی ہے لیکن دینی لحاظ سے دیکھا جائے تو تبلیغ واجب ہے تو اہل پاکستان کو اس صورتحال میں آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔عرض یہ ہے کہ اسلام تو ایک بین الاقوامی مذہب ہے اور احمدیت کے معنی اسلام کی وہ تصویر ہے جو اللہ تعالیٰ نے الہاما حضرت مسیح موعود پر نازل فرمائی۔تو میں عمومی سطح پہ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ایک سونامی طوفان کی طرح مخالفتوں کی لہریں ہر جگہ اٹھتی ہیں۔بنگلہ دیش سے، انڈونیشیا سے، اور کسی زمانے میں کئی اور جگہ پر، بلکہ آپ دیکھیں یورپ میں پہلا شہید جو ہوا وہ احمدی ہے۔البانیہ کا میں ذکر کر رہا ہوں۔یہ Pre Partition کی بات ہے۔جنگ عظیم سے پہلے کی بات ہے۔تو خدائی سلسلوں کا Criteria یہ ہے کہ خدائی جماعتوں کی مخالفت ضرور ہوتی ہے۔آپ تصور کریں کہ جس خدا نے حرف کن کے نتیجہ میں اتنی بڑی کائنات پیدا کی ، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں تھا کہ جو نہی آنحضور ﷺ پر سورۃ قلم کی پہلی آیات نازل ہوتیں حضور علیہ السلام مکہ پہنچتے اور سارا مکہ مسلمان ہو جاتا اسی لمحے اور پھر اس کے دیکھا دیکھی ساری دنیا کی طاقتیں جو تھیں وہ رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں آجاتیں۔قادر ہے یا نہیں قادر؟ یہ قادر کی بات بھی بڑی عجیب ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے ایک