اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 528
528 وقت جاری ہے زیادہ عرصہ تک نہیں رہ سکتا۔45ء کے پہلے نصف حصہ میں یا تو جنگ بالکل ختم ہو جائے گی یا ایسی صورت اختیار کر لے گی کہ انسان اطمینان کے ساتھ یہ کہہ سکے گا کہ اس لڑائی کا کیا انجام ہوگا اور اس کی بنیاد اسی سال یعنی 43ء میں پڑے گی۔مگر یہ فتنے ابھی ختم نہیں ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ان فتنوں کو لمبا کرے گا اور لمبا کرتا چلا جائے گا۔تا کہ وہ قوم اس عرصہ میں تیار ہو جائے جس نے آئندہ دنیا کی حکومتیں اپنے ہاتھ میں لینی ہیں۔سورۃ کہف میں ذکر آتا ہے۔( یہ نمور سے اور توجہ سے سماعت فرمائیں ) سورۃ کہف میں ذکر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھی کے ساتھ جا رہے تھے کہ انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گر رہی تھی۔انہوں نے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ کھڑا کر دیا اور اسے گرنے سے محفوظ کر دیا۔پھر اللہ تعالیٰ اس سورت میں یہ بتاتا ہے کہ دیوار کو مضبوط بنانے میں حکمت یہ تھی کہ اس کے نیچے دو یتیم بچوں کا خزانہ تھا اور اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ جب تک وہ بچے جوان نہ ہو جائیں ان کا خزانہ دیوار کے نیچے محفوظ رہے۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔” جنگ کی موجودہ حالت بھی ایسی ہی ہے مگر وہاں تو دیوار بنانے سے خزانہ محفوظ رہا تھا اور یہاں دیواریں گرانے سے خزانہ محفوظ رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان دنیاوی عمارتوں کو گرا رہا ہے مگر بجائے اس کے کہ وہ یکدم سب عمارتوں کو گرائے ان کو آہستہ آہستہ گرا رہا ہے۔کیونکہ وہ لوگ جن کے سپرد اس عمارت کی نئی تعمیر ہے وہ خدا تعالیٰ کے انجینئر نگ کالج میں اس وقت پڑھ رہے ہیں اور ابھی اپنی تعلیم سے فارغ نہیں ہوئے۔پس اگر آج تمام عمارتیں یکدم گر جائیں تو چونکہ وہ لوگ جنہوں نے کئی عمارتیں کھڑی کرنی ہیں ابھی اپنی تعلیم کی تعمیل نہیں کر سکے ، اس لئے خلا رہ جائے گا۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ ان دیواروں اور مکانات کو گرا رہا ہے۔آج ایک دیوار کو گراتا ہے تو کل