اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 275
275 میں اسلامی آثار پائے جاتے ہیں۔کیا ہم ان سب کو خیر باد کہہ دیں گے۔کیا ان کے باوجود ہم ہندوستان کو ہندؤوں کا کہہ سکتے ہیں۔یقیناً ہندوستان ہندؤوں سے ہمارا زیادہ ہے۔قدیم آریہ ورت کے نشانوں سے بہت زیادہ اسلامی آثار اس ملک میں ملتے ہیں۔اس ملک کے مالیہ کا نظام ، اس ملک کا پنچایتی نظام، اس ملک کے ذرائع آمد و رفت سب ہی تو اسلامی حکومتوں کے آثار میں سے ہیں۔پھر ہم اسے غیر کیونکر کہہ سکتے ہیں۔“ آگے سنیں آپ ! کیا سپین میں سے نکل جانے کی وجہ سے ہم اسے بھول گئے ہیں۔ہم یقیناً اسے نہیں بھولے۔ہم یقیناً ایک دفعہ پھر سپین کو لیں گے۔اسی طرح ہم ہندوستان کو نہیں چھوڑ سکتے۔یہ ملک ہمارا ہندوؤں سے زیادہ ہے۔ہماری سنتی اور غفلت سے عارضی طور پر یہ ملک ہمارے ہاتھ سے گیا ہے۔ہماری تلوار میں جس مقام پر جا کر گند ہوگئی تھیں وہاں سے ہماری زبانوں کا حملہ شروع ہوگا اور اسلام کے خوبصورت اصول کو پیش کر کے ہم اپنے ہندو بھائیوں کو خو دا پنا جز و بنا لیں گے مگر اس کے لئے ہمیں راستہ تو کھلا رکھنا چاہئے۔“ 66 روزنامه الفضل قادیان 16 اپریل 1946 ، صفحہ 3-4) یہ تصور ہے حضرت مصلح موعودؓ کا۔ہاں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرار داد پاکستان کس نے پیش کی تھی۔حضرت قائد اعظم راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس (Round Table Conference) کے بعد خود فرماتے ہیں کہ میں ہندوؤں کے اور کانگریس (Congress) کے لیڈروں کی جو چالیں تھیں، ان کی وجہ سے میں بالکل مایوس ہو گیا تھا کہ ہندوستان میں اب مسلمانوں کا مستقبل بالکل تاریک ہے۔میں کوئی مدد ہی نہیں کرسکتا۔جب گاندھی اور نہرو یہ کہہ رہے تھے کہ یہ برٹش ایمپائر کا حق نہیں ہے کہ وہ ہندوستان کی اقلیتوں کے متعلق ہم سے کوئی مذاکرات کرے۔اگر ہندوستان سے انگریز چلے جائیں یہ مذاکرات کرنا کانگریس کا فرض ہو گا۔یہ صورتحال تھی۔آج کے پاکستانی افراد کو پتہ ہی نہیں ہے۔کس قیامت