اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 274 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 274

274 ہی بدل جائے گا۔آپ دیکھیں کہ سیکنڈ ورلڈ وار کے دوران اس دور کے جرمنی کے سر براہ ہٹلر نے رشیا کے ساتھ معاہدہ کیا اور چند دن کے بعد راتوں رات ماسکو پر چڑھائی کر دی۔تو وہ معاہدے کی بات تھی۔وہ استثنائی قصہ تھا۔اب میں اس سلسلہ میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ یہ جو حضور نے یہاں بیان فرمایا ہے۔اکھنڈ ہندوستان کا پہلوحضور نے اس کو اس سے پہلے واضح کیا ہوا ہے کہ حضور کا موقف کیا ہے۔دراصل احراری ملاں تو کانگریس کا سدھایا ہوا جانور ہے۔قائد اعظم نے اس کو یہ نام دیا ہے۔یہ شائع شدہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کانگریس کے سدھائے ہوئے پرندے اس وقت ہمارے مخالف ہیں۔(اخبار ” انقلاب 18 اکتوبر 1945ء صفحہ 8 اور براہ راست مخاطب اس کے احراری ٹولے والے تھے۔حضور نے جس وقت کہ پارلیمنٹری مشن کے ایام تھے، مسلمانوں کو اور مسلم لیگ کو اور حکومت کو اور کرپس (Cripps ) کو ، ان سب کو اپنے مخلصانہ مشوروں سے نوازا۔اس میں آپ نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کے نمائندوں کو یعنی مسلم لیگ کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ ہندوستان ہمارا بھی اسی طرح ہے جیسا کہ ہندؤوں کا۔آپ دیکھیں کہ اکھنڈ ہندوستان کا کیا تصور ہے۔وہ تصور نہیں جو ملاں کے دل میں پہلے دن سے تھا کہ اگر پاکستان بن بھی گیا تو ہم مسلح بغاوت کر کے پھر اس کو ہندوستان میں شامل کریں گے۔یہ ملاں کا تصور ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کا تصور میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور حضوڑ ہی کے اپنے الفاظ میں ! فرماتے ہیں کہ میں مسلمانوں کے نمائندوں کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ ہندوستان ہمارا بھی اسی طرح ہے جس طرح ہندوؤں کا۔ہمیں بعض زیادتی کرنے والوں کی وجہ سے اپنے ملک کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔اس ملک کی عظمت کے قیام میں ہمارا بہت کچھ حصہ ہے۔ہندوستان کی خدمت ہندوؤں نے تو انگریزی زمانہ میں انگریزوں کی مدد سے کی ہے لیکن ہم نے اس ملک کی ترقی کے لئے آٹھ سو سال تک کوشش کی ہے۔پشاور سے لے کر منی پور تک اور ہمالیہ سے لے کر مدراس تک ان محبان وطن کی لاشیں ملتی ہیں جنہوں نے اس ملک کی ترقی کے لئے اپنی عمر میں خرچ کر دی تھیں۔ہر علاقہ