اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 276
276 سے دو چار تھی اس وقت مسلم لیگ اور کس طرح بے قراری کے ساتھ اس وقت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور حضرت مصلح موعودؓ نے اور پوری جماعت نے مسلمانوں کو بیدار کیا کہ دیکھو تمہارے خلاف سازش ہے کہ انگریز کو نکال دو اور اس کے بعد ہندو جس طرح چاہے گا تمہیں قصاب خانے میں لے جا کر تمہارا قتل عام کرے گا۔یہ معمولی بات نہیں تھی۔جو منظر اب آپ کشمیر میں دیکھ رہے ہیں 1947ء سے لے کر آج تک۔اس سے زیادہ خوفناک وہ منظر آنے والا تھا۔حضور نے فرمایا کہ یا درکھو اگر آج پاکستان کے جھنڈے تلے جمع نہ ہوئے تو پھر سپین کی طرح تمہارا صفایا کر دیا جائے گا۔یہ حضور کا دتی میں خطبہ تھا اور وہ شائع شدہ موجود ہے کہ دیکھو پین کے سے حالات پیدا ہورہے ہیں۔حضرت قائد اعظم انگلستان سے ہندوستان نہیں آرہے تھے۔آپ جانتے ہیں کہ بہت اولوالعزم انسان تھے۔جب انہیں نظر آرہا تھا کہ انگریز کانگریس کی طرف جھکا ہوا ہے کیونکہ آخر اسے یہ بھی فکر ہے کہ آج نہیں تو کل اسے جانا پڑے گا اور اس لئے زیادہ فکر تھی کہ سیکنڈ ورلڈ وار (1939-1945 Second World War) نے اس کی اکانومی کو بالکل تنہس نہس کر کے رکھ دیا تھا۔اس کے بعد یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ہندوستان میں انگریز زیادہ دیر تک اور حکومت کر سکتا۔وہ اس کے بعد جانا چاہتے تھے۔یہ بات نظر آ رہی تھی اور اس بات پر تلے ہوئے تھے کہ اگر مسلمان ہماری کسی تجویز کو نہ بھی مانیں گے تو بھی ہم بہر حال جائیں گے اور کانگریس کو اقتدار منتقل کر کے چلے جائیں گے۔یہ صورتحال تھی اس وقت۔آپ تصور تو کریں۔اک قیامت کا سا منظر تھا۔آج کے مسلمانوں کو علم نہیں ہے کہ ایک کیمپ ( Camp) حضرت قائد اعظم اور جماعت احمدیہ کا تھا جو مسلمانوں کی طرف تھے۔پاکستان کے قیام میں سر دھڑ کی بازی لگا رہا تھا اور دوسری طرف احرار اور دوسرے کانگریس کے غمخوار اور خود کاشتہ پودے اور حضرت قائد اعظم کے الفاظ میں کانگریس کے سدھائے ہوئے جانور اور پرندے تھے جو اس سازش میں ہندوؤں کے ساتھ شریک تھے کہ انگریز افرا تفری کی حالت میں جائے اور مسلمانوں کا کوئی موقف ہو اور نہ کوئی پاکستان ہو۔بلکہ جس طرح چاہیں ہندومسلمانوں کے ساتھ سلوک کریں۔یہ صورتحال تھی۔قرار داد پیش کس نے کی تھی آخر ! حضرت قائد اعظم نے۔قائد اعظم انگلستان سے ہلنا نہیں چاہتے تھے۔وہاں مستقل طور پر انہوں نے بنگلہ لے لیا تھا۔