اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 532
532 میں۔حضرت سید میر داؤ د احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ تھے۔ان کی بھی تقریر تھی۔مولانا غلام باری صاحب سیف، ہمارے استاذ رحمہ اللہ وہ بھی تشریف لے گئے تھے۔تو میں اپنے معمول کے مطابق راجہ بازار میں مولوی غلام اللہ خاں کا وہاں پر مدرسہ بھی تھا، کچھ دکانیں دیو بندیوں کی بھی ہیں۔وہاں پر میں گیا اور میں نے کہا کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ کی کوئی کتاب ہے۔میں وہ لینا چاہتا ہوں۔خیر انہوں نے کچھ کتابیں دیں۔میں نے وہ کتا ہیں جو میرے پاس موجود نہیں تھیں، وہ خرید لیں، پیسے دیئے۔ان میں جو میرے پاس موجود تھی ” تحذیر الناس، بھی تھی لیکن میں نے وہ بھی ایک نسخہ خرید لیا۔اس وقت تک وہ ہمارے سامنے چائے وغیرہ پیش کر چکے تھے۔میرے ساتھ دو تین خدام بھی تھے۔میں نے ان سے کہا میں آپ کو تبلیغ کے لئے لے جاتا ہوں۔انہوں نے بھی یہ بات کہی کہ جی بڑی مشکل ہے۔یہاں فتنہ پیدا ہو جائے گا اگر کوئی احمدیت کی تبلیغ کرے گا۔ہم لوگوں نے چائے پی ، ان سے کتابیں خریدیں، پیسے دیئے۔اب پیسے بھی ان کو مل چکے تھے۔میں نے ان سے کہا دیکھیں کتنی عظمت خدا نے بخشی ہے کتنے ظالم ہیں بریلوی لوگ جو حضرت مولانا قاسم نانوتوی کو منکر ختم نبوت کہتے ہیں۔کس شان کے ساتھ انہوں نے ختم نبوت کے معنی بیان کئے ہیں کہ باقی نبی امتیوں کے باپ تھے اور محمد رسول اللہ نبیوں کے بھی باپ تھے اور اگر کوئی اور نبی بھی پیدا ہو جائے تو ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آئے گا ( تحذیر الناس، صفحہ 34 ناشر دار الاشاعت اردو بازار کراچی )۔اور اہل سنت یہی کہتے ہیں جو نبی آئے گا وہ شریعت محمدی لے کر آئے گا۔اور یہی جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے۔السلام علیکم۔یہ بات کہی اور پھر میں واپس آ گیا۔تو اصل میں سوچنے کی ضرورت یہ ہے کہ خدا نے تبلیغ کا حکم نہیں دیا بلکہ اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (النحل: 126) (ترجمہ: اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے) کا حکم دیا۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ اصل کام تو خدا کا ہے۔وہ تو دنیا میں کوئی احمدی اگر خدا کی آواز کو بلند کرتا ہے تو خدا اس کو ثواب دینا چاہتا ہے۔ور نہ حضرت مسیح موعود نے یہی فرمایا ہے کہ قضائے آسمانست ایس بہر حالت شود پیدا اسلام کو تو دنیا میں غالب ہونا ہی ہوتا ہے۔یہ اللہ کا فضل ہے کہ تمہیں اس کی توفیق عطا کی