اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 533
533 جارہی ہے۔اس بارے میں آپ دیکھیں کہ خدا نے ایک وسیع نظام قائم کیا ہے اور پہلے دن سے مسیح موعود کو بتایا ہے۔ینصرک رجال نوحى اليهم من السماء فرمایا جہاں تک قانون تمہیں اجازت دے، حکمت عملی کے ساتھ حقیقی اسلام کی دعوت دیتے چلے جاؤ۔غافل نہ ہونا کیونکہ دعوت الی اللہ جو ہے وہ صرف پانچ وقتہ فرض نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ نمازیں پانچ پڑھتے تھے تہجد کے علاوہ مگر تبلیغ کا کوئی وقت معین تھا ؟ زندگی کے آخری سانس تک آپ نے یہ فرض ادا کیا ہے۔اتنی بڑی اور اہم چیز ہے۔یہ آنے والے کیا خیال ہے کہ سب حضور ہی کی تبلیغ سے پہنچے وہاں پر۔وہ اللہ کا سامان تھا۔کیونکہ رسول اللہ کے متعلق لکھا ہے کہ خدا نے فرشتے رسول پاک ﷺ کی خدمت میں بھیجے ہیں کیونکہ سب سے بڑے آدم تو آپ تھے۔تو فرشتوں کا نزول بدن پر ہوا کیونکہ عقیدہ کا بدلنا دلوں سے ممکن ہے۔بموں سے کھوپڑیاں آپ تو ڑ سکتے یا تلواروں سے مگر عقیدہ کو نہیں بدل سکتے۔دشمنوں نے آگ کے انگاروں پر صحابہ کو ڈال دیا اور ظالموں نے یہاں تک خبیب کے ساتھ کیا ، وہ خود فرماتے ہیں کہ جب تک اندرونی طور پر رطوبت باہر نکل کر ان کوئلوں کو بجھا نہیں دیتی تھی ، اس وقت تک یہ ظالم آگ پر رکھتے رہے۔بلال کو تپتی ہوئی ریت کے اوپر لٹاتے تھے۔مگر بلال احد، احد، احد ہی کہتے تھے۔کیوں؟ اس واسطے کہ ایمان لانے والے پر خدا کا انقلاب یہ ہے کہ اس کے دل کے اوپر خدا کا تخت قائم ہو جاتا ہے۔تو تبدیلی جو ہے وہ انسان کے دل میں واقع ہوتی ہے اور دلوں پر قابض نہ کوئی حکومت ہوسکتی ہے نہ کوئی اقتدار ہو سکتا ہے۔دلوں پر خدا کا قبضہ ہے یا درکھیں۔اس دل کو بدلنے کے لئے خدا نے اپنے فرشتے نازل کئے ہیں۔پہلی جماعتوں کے لئے بھی اور محمد رسول اللہ کے لئے بھی یہی انتظام کیا اور خدا نے مسیح موعود کو بتایا کہ گھبرانے کی بات نہیں ینصرک رجال نوحى اليهم من السماء تم اپنا کام کرتے چلے جاؤ۔ہم اپنے فرشتوں کے ذریعہ سے تمہارے پاس لائیں گےلوگوں کو۔اب آپ احمدیت کی تاریخ کو پڑھیں۔میرے پاس استاذی المحتر م مولا نا عبدالرحمن صاحب مبشر کی ایک عظیم الشان اور بلند پایہ کتاب ہے۔یہ خلافت سلور جوبلی کے سال قادیان میں شائع ہوئی تھی۔یہاں دوبارہ چھپی اضافوں کے ساتھ۔” بشارات رحمانیہ اس کا نام ہے۔اس میں بہت ہی عظیم الشان واقعات بیان کئے گئے ہیں کہ بزرگوں کو قادیان تک کا نقشہ دکھا دیا گیا۔مسیح موعود کی شکل دکھا دی گئی۔وہ یہاں آئے۔کسی نے تبلیغ نہیں کی اور آتے ہی درخواست کی کہ حضور میں آپ