اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 490 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 490

490 سکتا۔سو فیصدی اس کی تائید اس میں ملتی ہے۔اس پہلی کتاب ” کون کیا ہے“ میں یہ ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے اور حضرت خلیفہ المسح الرابع نے آئین پاکستان کے متعلق جو کچھ کہا اوران فیصلوں کے متعلق جوعدالتوں میں کئے گئے۔اس کے بعد جو حشر ہوا اس آئین کا وہ اس سے پتہ چلے گا۔1973ء کے متفقہ آئین کی خاطر بھٹو صاحب نے جماعت احمدیہ کو نشانہ بنایا اور فخر کیا کہ یہ متفقہ آئین میں نے دیا ہے، 1973ء کا آئین اور اس کے بعد انتخابی مہم میں خاص طور پر ان کا تذکرہ کیا گیا کہ ملک میں پہلی دفعہ متفقہ آئین دیا گیا ہے جس پر کہ چاروں صوبے متفق ہیں۔لیکن آپ دیکھیں کہ وہ متفقہ آئین ! اس کے بعد اس فیصلے سے پہلے صرف ایک ترمیم ہوئی تھی۔23 اپریل 1974ء کو اور وہ ترمیم مشرقی پاکستان کو پاکستان سے نکالنے اور بنگلہ دیش کے تسلیم کرنے کی۔لیکن اس دوسری ترمیم کے بعد یہ سترہویں ترمیم تک معاملہ پہنچا ہے۔(اب 22 ویں ترمیم تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ناقل ) اور سپریم کورٹ کے سابق جوں نے لکھا ہے کہ ضیاء الحق کے زمانے میں اس آئین کی دھجیاں بکھر گئیں جس کو کہ بھٹو صاحب نے متفقہ بنایا تھا اور جس کی وجہ سے احمد یوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے منصوبے بنائے گئے تھے۔اور اس کا خلاصہ میں بیان کر چکا ہوں۔ہاں ایک بات اس میں رہ گئی ہے چھوٹی سی۔وہ یہ ہے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث نے محضر نامے میں بھی اور حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے تو کھلے لفظوں میں یہ بات کہی کہ اگر پاکستان کے سیاسی لیڈر اور مذہبی لیڈر اس روش پر قائم رہے تو نہ صرف خدا تعالیٰ لیڈروں کی رسوائی کا سامان کرے گا بلکہ پاکستان نہایت خطرناک قسم کے نتائج کی گرداب میں پھنس جائے گا۔پھر زیڈ۔اے۔سلیری کی ایک کتاب ہے۔مسئلہ افغانستان“ یہ بھی جس طرح میں نے عرض کیا ہے ایک آسمانی Aid ( تائید ) ہے جو کہ ہم لوگوں کو حضرت خلیفہ اسیح کی غلامی کے طفیل ملتی ہے۔میں کوئی دو ہفتے سے اپنی یہ کتاب تلاش کر رہا تھا۔آج صبح میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ کہا کہ الہی تیرا ہی وعدہ ہے۔انــی مــعـيـن مـن اراد اعانتک یہ دعا