اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 491 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 491

491 کرتے ہوئے میں نے ایک ایسی الماری کو دیکھنا شروع کیا کہ جس کے متعلق میرا تصور بھی نہیں تھا۔در اصل بات یہ تھی کہ یہ کتاب Arrival والی کتابوں کی بجائے افغانستان کے خانے میں رکھی ہوئی تھی تو وہاں سے نکلی۔اس میں زیڈ۔اے۔سلیری صاحب کا بیان ہے۔یہ سلیری صاحب مونچھوں کے بال سمجھے جاتے ہیں ضیاء صاحب کے اور یہ چار پانچ سال تک ان کی مجلس شوری کے سرگرم ممبر رہے، پھر مشیر بھی رہے۔یہ جنیوا میں ہونے والا امریکہ اور رشیا کا سمجھوتہ جو کہ افغانستان کی جنگ کے متعلق تھا، اس کا اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔شاید اس بارے میں صدر ضیاء الحق کو کوئی زخم لگا ہے کہ ان جیسا سابر اور تحمل اور اپنے اوپر ضبط رکھنے والا صاحب اقتدار بھی اپنے درد کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکا۔انہوں نے مدیران جرائد کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ( یعنی پر یس کا نفرنس میں یہ کہا ) کہ سر براہی کانفرنس میں امریکہ اور روس میں سمجھوتہ ہو گیا اور اس کوئلوں کی دلالی میں ہمارا منہ کالا ہو گیا۔“ مسئله افغانستان از زیڈ اے سلیری صفحہ 156 ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کس طرح ان کے گرویدہ اور خلیفتہ المسلمین سمجھنے والوں میں سے تھے۔” صاحب اقتدار بھی یعنی جس شخص نے کھلے بندوں کوڑوں کی سزا دی اور اس ملک کو وسیع قید خانے میں بدل دیا اور اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا اور اسلام کے نام پر سب کچھ کیا۔تو یہ صاحب فرماتے ہیں کہ ضیاء الحق بڑے صابر، بڑے تحمل اور اپنے اوپر ضبط رکھنے والے صاحب اقتدار تھے۔تو یہ سزا تو قیامت کے دن جہنمیوں کی خدا نے قرار دی ہے۔ویسے تو مرنے پر بھی دنیا کے سامنے ظاہر ہو گیا مگر اس سے پہلے زبان سے خدا نے کہلوا دیا اور ساری دنیا میں یہ بیان چھپ گیا کہ ضیاء صاحب دلال تھے اور مرے نہیں جب تک کہ خدا نے ان کا منہ کالا نہیں کر دیا۔جسٹس جاوید اقبال کے قلم سے بھٹو اور ضیاء کی چہرہ نمائی حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔مولانا ! ڈاکٹر سر اقبال کے صاحبزادے ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج بھی رہے ہیں۔دونوں لحاظ سے