اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 489 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 489

489 صاحب پاکستان کے بڑے مشہور مفکر ہیں۔یہ غالباً ان کا ادارہ ہے۔اب کون کیا ہے“ کے بارہ میں عرض کرتا ہوں۔میں نے حضور کے بیانات کے سلسلہ میں یہ بتایا تھا کہ پہلے دن ہی حضور نے فرمایا۔جب یہ اٹارنی جنرل صاحب کی طرف سے سوال ہوا کہ آپ کا رد عمل کیا ہوگا تو حضور نے یہی جواب دیا تھا کہ یہ فیصلہ اگر ہوا تو ہمارے خلاف نہیں، محمدعربی ﷺ کی سپریم کورٹ کے خلاف فیصلہ ہوگا۔“ ور اس کے بعد جیسا کہ ڈاکٹر ( سلطان احمد مبشر ) صاحب کی تازہ تالیف ” تاریخ انصاراللہ جلد دوم میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے خود بیان فرمایا کہ میں نے تین دفعہ دعائیں کیں مگر الہام یہی ہوا کہ خدا اس پارٹی کو اور ان لوگوں کو تباہ کرے گا اور ( عفوکی ) دعا کرنے کے باوجود بار بارخدا کی طرف سے یہی الہام ہوا۔اس دوسری کتاب ” فرقہ واریت ملتی خود کشی‘ میں نہ صرف یہ ذکر ہے کہ آج تک فرقہ واریت جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بھی آخر میں خلیفہ عبدالحکیم کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا تھا اور اس کی روشنی میں فرمایا تھا کہ آج ہمارے خلاف ہو، کل ملا جو ہے دوسرے کے خلاف فتنے اٹھا ئیں گے اور اس کے نتائج آپ کو بھگتنا پڑیں گے۔یہ کتاب بتاتی ہے کہ 1974ء میں خدا کے شیر نے اسمبلی میں ملک کے دانشوروں کو خدا سے علم پا کر پاکستان کا جو عبرت ناک نقشہ ہونے والا تھا اور وہ پاکستان جس کو حسن تہامی صاحب نے کہا تھا کہ اب صحیح معنوں میں اسلامی حکومت بنی ہے کیونکہ مرزائیوں کو خارج از اسلام قرار دے دیا گیا ہے۔(روزنامہ مشرق لاہور 9 ستمبر 1974، صفحہ 1 ) وہ نقشہ اس کتاب سے آپ کو پوری طرح نظر آئے گا بلکہ یہی نہیں، خدا کا تصرف یہ ہے کہ اس میں صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ جب تک حکومت ملاؤں کو لگام نہیں دے گی اور مسجدوں کا کنٹرول خود نہیں سنبھالے گی اور ان کے خطبہ دینے پر پابندی نہیں لگائے گی ، اس وقت تک ملک میں کبھی بھی امن نہیں ہوسکتا۔(صفحہ 235) اور یہی وہ بات ہے کہ جسے بیسیوں مرتبہ حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے اپنی تقریروں میں بیان کیا۔اپنے خطبوں میں اس کی نشاندہی کر کے فرمایا جب تک کہ اس پیر تسمہ پا کو ختم نہیں کیا جائے گا، پاکستان آرام کی نیند نہیں سو