اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 447
447 تحریف معنوی ہے۔“ آگے جو حضور کی طرف سے اس میں جواب لکھا گیا ہے چودہویں صدی کے اس یہودی کی طرف سے اس میں صرف یہ لکھا گیا ہے کہ ایک لفظ کے کئی ترجمہ ہو سکتے ہیں۔“ لیکن حق یہ ہے جیسا کہ خود حکومت پاکستان کے مجریہ سرکلر سے ثابت ہے،حضور نے اس دعوئی کے ساتھ دلائل بھی پیش فرمائے ہیں اور اس ضمن میں بعض قدیم کتب کا بھی حوالہ دیا ہے۔صفحہ 236 پر ظفر انصاری کا یہ سوال درج ہے کہ ”حضرت مرزا صاحب کو ان آیات قرآنی میں الہام ہوا جو 66 آنحضرت ملالہ سے مخصوص ہیں۔“ جیسا کہ سرکاری ریکارڈ یعنی سرکلر کے صفحہ 114 اور 115 کے مطالعہ سے واضح ہے۔حضور نے اس ضمن میں حضرت مولوی عبداللہ غزنوی کے متعدد الہامات پیش فرمائے۔میں تفصیل عرض کر چکا ہوں۔آنحضرت ﷺ کے لئے جو آیات اور مقام سے مختص تھے ان الفاظ میں الہامات ہوئے۔اسی طرح حضرت سید عبد القادر جیلانی کی کتاب "فتوح الغیب سے بھی مثالیں حضور نے پیش کیں۔حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی کو کئی بار وہ آیات الہام ہوئیں جو قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اعلیٰ شان کے لئے مذکور ہیں۔مگر کتنے شرم کی بات ہے کہ اس نام نہاد گستاخ ختم نبوت نے اپنی کتاب کے صفحہ 237 پر حضور کی طرف سے صرف یہ جواب نقل کیا ہے بزرگوں کو الہام نہیں ہوتے ؟ اس کا کوئی مقصدی نہیں ہے۔" حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔منارہ اسیح کے حوالے سے بھی ایک سوال تھا اور حضور نے جو مفصل جواب دیا۔اس حوالے سے بھی اس کتاب میں غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب: کتاب کے صفحہ 240 پر مولوی ظفر انصاری کا یہ اعتراض درج ہے کہ دمشق میں ایک مینار پر حضرت عیسی کا نزول ہوگا۔مرزا صاحب