اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 448 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 448

448 66 نے قادیان میں مینار مسیح بنوایا۔“ کتاب کے مؤلف کے مطابق حضور نے اس کا جواب محض یہ دیا کہ مشق ایک اینٹ گارے کا شہر ہے“ اب حکومت پاکستان کے سرکلر سے حضور کا اصل جواب ملا حظہ ہو :۔دمشق ایک اینٹ گارے کا بنا ہوا شہر بھی ہے اور دمشق کے ساتھ کچھ مذہبی Associations بھی ہیں۔تو جو حدیث میں آیا ہے کہ دمشق کے قریب اترے گا آنے والا مسیح۔بانی سلسلہ احمدیہ نے ہمیں یہ نہیں کہا۔بانی سلسلہ احمدیہ نے ہمیں یہ کہا کہ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دمشق جو اینٹ گارے کا بنا ہوا ہے وہ، بلکہ جو Associations امت مسلمہ کے دماغ میں دمشق کے ساتھ ہیں وہ مراد ہے اور وہ اس کے سمبل (Symbol) کے طور پر مینار ہے۔مینار کی کوئی حرمت نہیں لیکن ایک علامت ہے اور ایک سمبل کے طور پر اس کو کھڑا کیا گیا ہے۔“ ( سرکلر 24 اگست صفحہ 142-143) کتنا شاندار، دلنواز اور محققانہ جواب ہے مگر ان ظالموں نے سب کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے اور ڈھنڈورا یہ پیٹا کہ ہم کامیاب ہو گئے۔کامیاب ضرور ہوئے ہیں مگر جھوٹ میں، دجل میں، فریب میں تحریف میں۔کامیابی اگر اس چیز کا نام ہے تو کوئی نہیں جو ان کی کامیابی کا انکار کر سکے۔مگر صاف ظاہر ہے کہ اگر حقیقتا کامیابی ہوئی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث اور احمدیت کی ہوئی ہے کیونکہ جب کوئی شخص جھوٹ بولنے پر مجبور ہو جائے تو وہ اعلان کرتا ہے کہ اس صداقت کا جواب میرے پاس کوئی موجود نہیں ہے۔الغرض کہاں تک بتایا جائے۔اس کتاب کی تیسری جلد میں عالمگیر جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا حضرت خلیفہ مسیح الثالث کے مفصل، مدلل اور حقیقت افروز بیان کو نہایت بے دردی سے اور اس کی تفصیل اور اصل سیاق و سباق سے قطع کر کے اپنے ڈھب میں ڈھالنے اور اس کا حلیہ بگاڑنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔مستشرقین یورپ نے عہد مظلمہ میں بالخصوص آنحضرت ﷺ کے ذکر میں اسی نوعیت کے دجل و تلیس کے بڑے بڑے شرمناک مظاہرے کئے ہیں۔مگر بلا شبہ اس کتاب نے پچھلی صدیوں کی