اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 439
439 امیر جماعت اسلام آباد مکرم جناب ورک صاحب اور مکرم جناب امیر جماعت راولپنڈی شہر چودھری احمد جان صاحب نے اشارۃ مکان حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے کرایہ پر لینے کی خواہش کی۔مکان مکمل نہ تھا اور نہ ہی سرمایہ۔میں نے عرض کیا کہ پندرہ ہزارل جائے تو کام ہو جائے گا۔“ اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ ”انہوں نے خاموشی اختیار کی اور میں اکثر دعا کیا کرتا کہ یا اللہ حضور مکان میں تشریف لے آویں۔کام رکھتا اور چلتا رہا۔جولائی 1974ء کے وسط میں مجھے 1200 کی سخت ضرورت تھی مگر کوئی انتظام نہ تھا۔۔۔مکرم جناب امیر صاحب چوہدری احمد جان صاحب۔۔۔نے مجھے ایک خط پر لکھ دیا کہ حضور کے لئے مکان چاہئے اور پچیس سو روپے نقد عطا فرمائے کہ فور ضروریات پوری کرلو۔۔۔۔پھر لکھتے ہیں کہ 66 حضرت مرزا منور احمد صاحب نے ایک دن اسمبلی کے دنوں میں مجھ سے کہا کہ حضور سے بھی ملاقات کر لو۔حضور قیام فرما ہیں اور یہ برکت کے ایام ہیں۔تو میں پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے بعد پھر میں نے عرض کیا کہ حضور دو ہی حصے ہیں اس کوٹھی کے۔جن میں سے ایک میں تو حضور قیام فرما ہیں۔اور دوسرے میں وفد کے ارکان ہیں تو حضور ان کے نام رکھ دیں۔تو فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ لمسیح الثالث نے اس جگہ پر جہاں حضور کا قیام تھا اس کا نام دار الامن تجویز فرمایا اور جہاں وفد کے ممبر مقیم تھے، اسے دار السلام قرار دیا۔“ اس گھر کا پتہ یہ ہے۔مکان نمبر 18 گلی نمبر 44 سیکٹر 8/1-F اسلام آباد۔سلطان احمد مبشر )