اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 438
438 اس مکان کی تعمیر میں اللہ تعالی کے افضال اور حضرت خلیفہ اسح الثالث کی اس مکان میں رہائش کے حوالہ سے بڑی ایمان افروز ہے۔آپ اگر اسے ہدیہ ناظرین کر سکیں۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ ان کا اصل خط ہے۔میں نے ان کی خدمت میں اسمبلی کی کارروائی کے معا بعد لکھا کہ آپ تو ایک تاریخی شخصیت بن گئے ہیں۔اپنے حالات سے اطلاع بخشیں تو بڑی عنایت ہوگی۔انہوں نے جو تحریر فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ 66 میرا آبائی گاؤں فیض اللہ چک ضلع گورداسپور ہے۔“ ڈاکٹر صاحب ! آپ کے سرال کا تعلق بھی تو فیض اللہ چک سے ہے۔اور اسی طرح بڑے بڑے اکابر بزرگ اور میرے استاد حضرت مولا نا عبد الرحمان صاحب جٹ کا تعلق بھی اسی گاؤں کے ساتھ ہے۔ڈاکٹر عطاء الرحمان صاحب امیر جماعت احمدیہ ساہیوال بھی وہیں سے تعلق رکھتے ہیں۔تو کہتے ہیں کہ ” میرا آبائی گاؤں فیض اللہ چک ضلع گورداسپور ہے۔۔میرے والد کا نام قاضی کریم اللہ تھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔( یہ میں ان کی تحریر پڑھ رہا ہوں۔) آپ ہجرت کے وقت گاؤں میں شہید ہو گئے۔“ ( دراصل فیض اللہ چک میں اس وقت بہت بڑا معرکہ اور جنگ تھی۔کئی احمدی بھی شہید ہوئے تھے۔) کہتے ہیں:۔ریٹائر منٹ کے وقت ائیر فورس میں سکواڈرن لیڈر کے عہدہ پر فائز تھا۔میں نے اسلام آباد میں ایک ٹکڑا زمین بنانے کے لئے 1966ء میں خریدا۔1973 ء جنوری میں ریٹائر ہونے کے بعد اس زمین پر مکان بنانے کا پروگرام بنایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مئی 1973ء میں اس پر کام شروع ہوا۔اس مکان کی تعمیل اور مالی مشکلات کے لئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں عرض قریباً روزانہ کیا کرتا تھا۔آخر 73 ء یا شروع 74ء میں