اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 440 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 440

440 پھر فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور ایدہ اللہ تعالیٰ باہر Terrace میں کھڑ۔فوٹوگرافی فرمارہے تھے۔ایک فوٹوگرافر نے حضور کا فوٹو لے لیا اور یہ ایک فوٹو بھی میرے پاس موجود ہے۔“ آخر میں لکھتے ہیں کہ میں اس وقت رسالپور میں رہتا ہوں اور یہ مکان وہ ہے جو ابھی تک نامکمل ہے اور یہ رسالپور میں احمدی کا پہلا مکان ہے۔نماز جمعہ رسالپور میں جماعت احمدیہ کے ممبر میرے مکان پر پڑھتے ہیں۔کارروائی سے متعلق شائع شدہ بعض کتب پر سیر حاصل تبصره ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب : - مولانا صاحب! قومی اسمبلی 1974 کی کارروائی خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔لیکن اس حوالہ سے کچھ کتابیں بھی بازار میں آئی ہیں۔آپ نے لازماً ان کا مطالعہ کیا ہوگا۔ایک چشم دید گواہ کی حیثیت سے آپ کا تبصرہ ان کتابوں پر کیا ہے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔جزاکم اللہ۔یہ بھی نہایت اہم ترین سوالات میں سے ہے۔اس تبصرے سے پہلے میں صرف یہ عرض کروں گا کہ بھٹو گورنمنٹ نے جو فیصلہ احمدیوں کے متعلق کیا تھا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے یورپ میں بھی اور پاکستان میں بھی ، انصار اللہ کے اجتماع میں یہ فرمایا ہے کہ یہ قانون جو For The Purpose Of The Constitution ہے، یہ خودحکومت کے اپنے سیاسی قانون کے لحاظ سے ہے۔یہ ہمیں پابند نہیں کرتا کہ ہم اپنے تئیں مسلمان نہ سمجھیں اور حقوق انسانی کے چارٹر کے لحاظ سے جو کہ خود آئین پاکستان کا مستقل حصہ ہے، ہمیں اختیار ہے کہ ہم اپنے مذہب کا اعلان عام کریں۔اسی طرح یہ کارروائی خفیہ رکھنے کا نہ کوئی گورنمنٹ کی طرف سے اعلان ہوا۔نہ صرف یہ نہیں ہوا بلکہ میں نے بتایا ہے کہ خود بھٹو حکومت نے اس کو شائع کیا مگر اس کی اشاعت خفیہ رکھی۔سرکلر میں اس کا مختصر جو خلاصہ تھا، وہ شائع کیا اور اس کی کا پیاں سینٹ اور اسمبلی کے ممبروں کے لحاظ سے شائع کیں اور پھر ان کو دیں اور ان سے کہا کہ پھر جس کو آگے وہ دینا چاہیں۔تو یہ چیز ہمیں پابند نہیں کرتی کسی لمحے میں بھی ، خاص طور پر اس شخص کو جو کہ Eye Witness ہو۔