اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 429
429 وہ ہوں میری طرح دیں کے منادی فسبحان الذى اخرى الاعادي میری طرح سے مراد یہ ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام جس طرح چاہتے تھے۔نداء مسیح موعود کی بلند کرنا ، خدا ان کے ذریعہ سے اور پھر قیامت تک میری نسل کے ذریعہ سے بلند سے بلند تر ہوتی چلی جائے۔میں یہ عرض کر رہا تھا کہ جب آخری اجلاس 24 اگست کی شب کو تقریبا دس ، گیارہ بجے آخری اجلاس تھا۔وہاں سے واپسی کے معاً بعد حضور نے ہمیں ارشاد فرمایا اور مجھے یاد ہے کہ ہم نے وہاں کھانا بھی نہیں کھایا ، کھانا راستے میں ہی کھایا۔حضرت سیدنا طاہر نے مجھے کہا کہ میں کارلاتا ہوں، مجھے فرنٹ سیٹ پر ہی بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔خیر وہاں سے چلے تو مسجد نور مری روڈ راولپنڈی کی جو ہے۔( میں بیت النور کہتا ہوں چونکہ آئین یہی کہتا ہے اور بیت کا لفظ ہی ہے جو خانہ کعبہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔دیکھیں گلاب کو جس نام سے بھی یاد کیا جائے اس کی خوشبو تو نہیں جاسکتی۔تو بیت خانہ کعبہ کے لئے خدا نے خود استعمال کیا ہے۔مسجد کا لفظ مسجد حرام کے لئے استعمال ہوا ہے۔لیکن خانہ کعبہ کے لئے بیت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔تو وہی ہم استعمال کرتے ہیں۔اب ہمارا اس میں کیا نقصان ہے۔؟) بہر کیف بیت نور تک جب ہم پہنچے تو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے فرمایا کہ دیکھیں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں راتوں رات ربوہ تک پہنچا دوں۔گھر تک نہیں پہنچانے کا ارشاد فرمایا ہے۔بلکہ ربوہ تک پہنچانے کا ارشاد فرمایا ہے۔تو یہ میرا فرض ہے لیکن تمہارا بھی ایک فرض ہے۔میں نے کہا حضور وہ کون سا فرض ہے۔فرمانے لگے کہ تمہارا فرض یہ ہے کہ جب تک ربوہ کی پہلی دیوار نہیں آتی تم نے خاموش نہیں ہونا۔کوئی لطیفہ بیان کرو۔کوئی نکتہ بیان کرو، کوئی مناظرہ ہے تو اس کا تذکرہ کرو تم نے خاموش نہیں ہونا۔کیونکہ ڈرائیو(Drive) میں کر رہا ہوں ، اونگھ آجائے گی۔کون ذمہ دار ہے اس کا ؟ خیر ! میں سنتا رہا یہ بات۔اب وہ بھی جانتے تھے کہ یہ جو حکم دیا جارہا ہے کس محبت اور پیار کا سمندر ہے اس کے پیچھے۔میں نے کہا میاں صاحب بات یہ ہے کہ آپ مجھ سے خدا کے لئے ربوہ کا