اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 428 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 428

428 کے پل کا اگلا حصہ تو جہلم پر ختم ہوتا ہے اور پہلے حصہ کے بائیں طرف بڑا سادہ سا ہوٹل ہوتا تھا اور اب بھی شاید ہو۔تو حضور کو نور کی گرم روٹی اور دال بہت پسند تھی ، اکثر آتے اور جاتے ہم لوگ ناشتہ یا چائے یا کھانا وغیرہ وہاں کیا کرتے تھے اور ہم نے اس وقت دیکھا ہے کہ جو لطف اس وقت گرم تنور کی روٹی سے اور دال سے آپ لیتے تھے۔حیرت آتی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ پلاؤ اور زردہ کھانے والے جو ہیں ان کو بھی وہ لطف نہیں آتا ہو گا جو حضور کو اس دال اور روٹی سے آتا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتنی سادہ زندگی تھی۔وہ کسی نے کہا ہے کہ ؎ لذت نان جویں تجھ کو مبارک اے شیخ مجھ گناہگار کو ہے صرف متنجن کافی مگر حضور نے کبھی وہاں پر رستے میں کوئی ایسی دکان نہیں چنی ،صرف یہ جگہ تھی جو ہمارا مرکز تھا اور اس میں تنور کی روٹی مل جاتی تھی۔اب دلچسپ یادوں میں سے انتہائی دلچسپ واقعہ میں آپ کے سامنے عرض کروں گا اور یہ واقعہ ہے کہ جب حضرت خلیفہ اسیح الرابع اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ، الہام کے مطابق اور آسمانی نوشتوں کے مطابق ” غار ثور کا نشان دوبارہ اللہ کے فضل سے دنیا کو دکھانے کے بعد لنڈن تشریف لے گئے اور حضور نے از راہ شفقت اسلام آباد لنڈن میں منعقد ہونے والے پہلے سالانہ جلسہ میں صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب اور خاکسار کو بطورنمائندہ ، شرکت کا ارشاد فرمایا۔وہاں میں اس خیال میں پہنچا تھا کہ جلسہ کی کارروائی سننے کے بعد واپس آنا ہو گا اور کوئی کتاب ساتھ نہیں لے گیا۔لیکن وہاں پر حضور کے ارشاد پر میں قریباً چھ ماہ رہا ہوں۔واپسی میری اگلے سال 20 فروری 1986 ء کو ہوئی۔اور میری بیگم بھی ساتھ تھیں۔حضور نے اتنی ذرہ نوازی فرمائی کہ میری بچی جو ایک عرصہ تک ٹورانٹو کی صدر لجنہ بھی رہی ہیں اور حضرت سیده ام متین صاحبہ اور حضرت سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ کے حضور خاص طور پر انہیں خدمت کا موقع ملا، ان سے تربیت حاصل کی۔کئی سال تک انہوں نے ٹورانٹو کے جلسہ پر تقریریں بھی کیں۔ان کا بچہ رضوان جامعہ احمدیہ ٹورانٹو میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔دعا کی بھی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بچوں کو آسمان احمدیت کے ستارے اور آفتاب و ماہتاب بنادے۔