اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 427 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 427

427 دراصل اس اسمبلی کے سلسلہ میں ابتداء سے لے کر آخر تک سب سے زیادہ مجھے جو سعادت ملی وہ سیدی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفتہ المسیح الرابع کی جوتیوں میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔بے تکلفی بھی بے انتہا تھی۔ابتداء سے آخر تک ہر مرحلہ پر محضر نامہ کے لکھنے، پہنچانے پھر سوالوں کے جوابات لکھوانے میں بھی ساتھ رہا۔ایک دفعہ فرمانے لگے کہ ہمیں تو کچھ پتہ نہیں کہ سوالات کیا ہونے والے ہیں۔تو کچھ نہ کچھ خود ہی اندازہ کر کے، خدا سے دعا کر کے کچھ سوالوں کے جواب بناتے رہا کرو۔پتہ نہیں کس وقت کس کی ضرورت ہو۔لوگوں میں تو ملاؤں نے مشہور کیا تھا کہ جی پہلے کوئی بتا دیا کرتا ہے حالانکہ اس سے بڑا جھوٹ بیسویں صدی میں شاید ہی کسی نے بولا ہو۔تو بات اتنی تھی حضور کے ارشاد پر میں نے پھر کئی حوالوں کی کئی فائلیں بنا ئیں۔آپ چاہیں تفصیل میں تو میں دکھا سکتا ہوں۔کچھ چھوٹی تھیں کچھ بڑی تھیں۔پھر مختلف مضامین کے لئے الگ بنائی گئیں کہ ممکن ہے کہ اس کی ضرورت پڑ جائے۔اس کے علاوہ یہ ہے کہ ربوہ سے اسلام آباد آنے کے لئے حضرت سیدی مرزا طاہر احمد صاحب نے خود ہی انتظام کیا اور فرمایا کہ میں اپنی گاڑی پہ آپ حضرات کو لے جاؤں گا۔چنانچہ جتنی دفعہ ہم گئے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا قیام تو وہاں ایک مخلص احمدی قاضی محمد شفیق صاحب مرحوم کے ہاں تھا اور ہم لوگوں کو آپ ارشاد فرماتے کہ اب آپ جا سکتے ہیں۔بعض اوقات حضور بھی درمیان میں ربوہ تشریف لے آتے۔لیکن بہر حال اس کے علاوہ پھر ہمارا قیام نہیں ہوتا تھا بلکہ حضور کا ارشاد ہوتا تھا کہ آپ فوراً چلے جائیں۔چنانچہ جس وقت آخری دن یہ اجلاس ختم ہوا تو حضور نے ارشاد فرمایا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کو بھی اور مجھے بھی کہ اب تم دونوں فوراً راتوں رات ربوہ پہنچ جاؤ اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور حضرت شیخ صاحب میرے پاس رہیں گے۔اس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں ان خوشگوار یادوں میں۔مگر اس سے پہلے اس سلسلہ میں میں نے بتایا ہے کہ حضور کی کار ہوتی تھی۔تو ہم اکثر ربوہ سے یہ جومونگ رسول والی نہر اور رستہ ہے،اس راستہ سے ہم پہنچتے تھے اور سرائے عالمگیر تک پہنچنے کے بعد آخر میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ دریائے جہلم