اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 426
426 عمر گذری ہے اس دشت کی سیاحی میں مگر حضور کے جوابات خدا کے خاص تصرف کے ماتحت ہیں۔ان سے نظر آتا ہے کہ جناب الہی کی طرف سے سکھائے گئے ہیں اس لئے کہ ساری عمر ہماری گذری ہے کتابیں پڑھتے ہوئے، اعتراضوں کا جواب دیتے ہوئے ، مناظرے اور مباحثے کرتے ہوئے مگر کبھی ہمارے ذہن اور خیال اور گمان میں بھی یہ جواب نہیں آیا۔بلکہ جب حضور نے خود ذکر فرمایا، خلیفہ اسیح الثالث نے، اپنے خطبہ میں اور ( ڈاکٹر سلطان احمد مبشر کو مخاطب کرتے ہوئے ) آپ کی نئی معرکۃ الآراء تصنیف ہے تاریخ انصار اللہ میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔حضور نے فرمایا کہ جب پوچھا گیا مجھ سے کہ مرزا صاحب نبی تھے۔نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ نہیں۔یہ جواب انتہائی بلیغ تھا اور سب کو حیرت میں ڈال دیا۔مولانا ابوالعطاء صاحب فرمانے لگے کہ میں بھی حیران ہو گیا تھا۔لیکن اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص اپنے تئیں نبی کہتا ہے وہ دجال اور کذاب، دائرہ اسلام سے خارج ہے۔بانی جماعت احمدیہ نے کبھی نبی ہونے کا دعوی نہیں کیا۔دعوی کیا ہے امتی نبی ہونے کا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ میں تو محمد رسول اللہ ﷺ کے سورج کا آئینہ ہوں۔دراصل اگر اس آئینے میں کوئی روشنی ہے تو وہ مرہون منت ہے شمس محمد یت کی۔بانی جماعت احمدیہ نے خود فرمایا ہے:۔این چشمه روان که بخلق خدا دہم یک قطره از بحر کمال محمد است فرمایا یہ جو عظیم الشان نظام جس کے نتیجے میں ہزاروں محمد عربی علیہ کے جھنڈے تلے جمع ہورہے ہیں اور یہ قرآن مجید کے عظیم الشان معارف جو ایک بحر مواج کی طرح موجیں لے رہے ہیں، یہ میری وجہ سے نہیں۔نہ میری ذات کا نتیجہ ہے، یہ سب محمد عربی ﷺ کے فیضان کے نتیجہ میں ہے۔آنحضرت عے سمندر ہیں جس کا کوئی کنارہ نہیں اور میں اس کا ایک قطرہ ہوں۔تو بانی جماعت احمدیہ کا اتنا ہی دعویٰ ہے کہ محمد عربی و کمالات کے نا پیدا کنارسمندر ہیں اور سمندر کا ایک قطرہ محمد رسول اللہ علیہ کی جوتیوں کے طفیل مجھے عطا ہوا ہے۔صلى الله حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی معیت کا عقیدت مندانہ اظہار اب سیدی حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے متعلق بھی آپ نے اس سوال میں پوچھا۔