اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 422
422 مجرموں کو یہ ملے گی کہ خدا ان سے کلام نہیں کرے گا۔تو یہ سزا خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکفیر کرنے والوں کو اس وقت سے دی ہے جب سے کہ انہوں نے تکفیر کا یہ کارخانہ شروع کیا ہے۔اور یہ قیامت تک رہے گی۔اب میں بتاتا ہوں کہ پہلے بزرگوں کو جو عاشق رسول تھے، جو صحیح معنوں میں محمد مصطفی علا اللہ کو خاتم النبین سمجھتے تھے اور جن میں ختم نبوت کا فیض خدا کی طرف سے الہام اور کشف کی صورت میں ظاہر ہوا تھا، انہوں نے محمد عربی ﷺ کا کیا فیضان دیکھا۔یہ کتاب دیو بندیوں نے شائع کی ہے۔کراچی سے چھپی ہے یعنی ترجمہ اس کا۔اس شان کی بلند پایہ کتاب ہے۔یہ کسی معمولی عالم کی کتاب نہیں ہے۔اپنے دور کے ایک کامل صوفی ہیں اور صاحب کشف اور الہام ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ مد عربی ﷺ کی کیا شان ہے۔دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام کہ میں تو محمد عربی ﷺ کے چاند کا چہرہ تمام دنیا کو دکھانے کے لئے آیا ہوں اور رب غنی نے محمد رسول اللہ ﷺ کے چاند کو دکھانے کے لئے مجھے آئینہ بنا دیا ہے۔ایک آئینہ تو وہ ہے جو انسان خود دیکھتا ہے۔فرمایا کہ میں وہ آئینہ ہوں کہ میں دنیا کو دکھانے کے لئے آیا ہوں کہ محمد مصطفی میے کی عظمت اور شان کیا ہے اور کس طرح خدا نے تمام مخلوقات میں تمام نبیوں کے سردار ہونے کا منصب آنحضرت علہ کو عطا فرمایا ہے۔حضرت احمد بن مبارک فرماتے ہیں: سمودیا ہے۔”حضرت سلام بھی کہتے ہیں کہ ہر عاشق رسول میں آپ کی صورت اس طرح مرتسم ہوئی ہے جیسے آئینہ کے سامنے کوئی کھڑا ہوا ہو۔“ بالکل وہی اصطلاح استعمال کی ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مصرعہ میں جیسے آئینہ کے سامنے کوئی کھڑا ہوا ہوتو وہ خود آئینہ کے اندر نہیں آیا بلکہ اس کی صورت اس میں اتر آئی ہے ( اور جتنے آدمی بھی آئینہ پر نظر ڈالیں گے وہ صورت بیک وقت سب کو نظر آئے گی۔) یہی وجہ ہے کہ بے شمار مخلوق ایک ہی وقت میں مختلف جگہوں پر خوابوں میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوتی ہے۔(اتنا باریک نکتہ ہے یہ۔ناقل ) کہ کوئی مشرق میں ہے اور کوئی مغرب میں