اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 407
407 اس لئے ان گیدڑ ھھکیوں کی پرواہ نہ کرو بلکہ اپنے مکانوں کو وسیع کرتے چلے جاؤ۔مسجدوں کو وسیع کرو اور اسی طرح اپنے مدارس کو وسیع کرو، مہمان خانوں کو وسیع کرو کیونکہ خلقت خداوندی آسمان کے فرشتوں کے ذریعہ سے فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے والی ہے۔اور دوسرا فر مایا کہ یہ الہام ہوا۔إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ فرمایا استہزا کرنے والوں کی پرواہ نہ کرو۔ان کی کوئی حیثیت نہیں۔میں خود ان کے لئے کافی ہوں جو استہزا کرنے والے ہیں۔مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تو فرمایا ہے۔جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار تو خدا نے پہلے سے بتا دیا کہ اس کا رد عمل دو شکلوں میں ہونے والا ہے۔ایک تو یہ کہ کثرت سے مخلوق آئے گی مسیح موعود کی غلامی میں داخل ہونے کے لئے اور دوسرا خدا تعالیٰ کی جو چکی ہے انذار کے لحاظ سے ، وہ دشمنان دین کے خلاف چلنے والی ہے کیونکہ یہ معاملہ خدا نے کہا ہے کہ میں خود نبٹ لوں گا۔یہ دونوں عظیم الشان نشان تھے کہ جو اس کے بعد، ہر آنے والے طلوع ہونے والے دن ، جب بھی چڑھا، آج تک پوری شان کے ساتھ دنیا کے سامنے آرہے ہیں۔ایک اور منذ را لہام جس میں اِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِینَ کی تشریح موجود ہے۔وہ ایک دوسرا الہام تھا۔اس سلسلہ میں جناب مولانا منیر احمد صاحب بسمل سابق مجاہد افریقہ، حال نائب ناظر اشاعت ربوہ کا حلفیہ بیان میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جو انہیں دنوں مولانا نے مجھے عطا فرمایا۔وہ تاریخ احمدیت کے مسودہ میں شامل ہے اور انشاء اللہ شائع ہوگا۔مولانا نے تحریر فرمایا:۔”خاکسار خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر عرض کرتا ہے کہ:۔مکرم کرنل حیات قیصرانی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ( یہ دسمبر 1978ء کی بات ہے۔1974ء میں حضرت خلیفۃ اسیح الثالث قومی اسمبلی میں تشریف لے جاتے اور غیر احمدی علماء کے سوالات کے جوابات دیا کرتے تھے۔ایک دن حضور نے مجھ سے ( یعنی کرنل حیات قیصرانی صاحب سے ) بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھٹو کے بارہ میں یہ آیات الہام کیں۔فَدَمُدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوْهَا وَلَا يَخَافُ