اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 406
406 دور ابتلاء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث" کے بعض الہامات ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: محترم مولانا ایک بہت اہم سوال یہ پوچھنا ہے کہ جماعت مشکل حالات سے گذر رہی تھی اور خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ بھی مصروف تھے۔دعاؤں میں بھی مصروف تھے۔اس دوران میں حضور کو خدا تعالیٰ سے راہنمائی بھی ملتی رہی اور بعض الہامات اللہ تعالٰی نے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ پر نازل فرمائے۔آپ ان کا کچھ ذکر کرنا چاہیں گے؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔یقیناً۔یہ تو تاریخ کا ایک سنہری ورق ہے اور بتا تا ہے کہ یہ خدا کی آسمانی جماعت ہے۔اور خلافت خدا کی قائم کردہ ہے۔اس سلسلہ میں میں دو امور کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ایک تو یہ ہے کہ یہ حضور نے خود بیان فرمایا اور دونوں باتیں آپ نے اپنی زبان مبارک سے انہی دنوں جماعت کے سامنے بھی رکھ دیں۔ابتدا میں اکثر احمدیوں کو پتہ نہیں تھا لیکن بعض بزرگوں نے بتا ئیں۔اس کے بعد حضور نے اپنے خطبوں میں بھی بیان کیں۔میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔پہلی اہم ترین بات جس کو میں نے خود حضور کی زبان مبارک سے اس موقعہ پر سنا جہاں تک مجھے یاد ہے۔” سرائے محبت کی چابیاں جس دن حضور نے ایک تقریب کے دوران جناب چوہدری حمید اللہ صاحب ناظر ضیافت ( حال وکیل اعلی تحریک جدید ) کو عطا فرما ئیں تو اس دوران حضور نے یہ ذکر فرمایا کہ ان ایام میں جبکہ دنیا ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتی تھی، میرے پیارے خدا نے مجھ پر دو الہام نازل فرمائے۔اس کے علاوہ حضور نے اپنے خطبہ جمعہ یکم نومبر 1974ء میں بھی ذکر فرمایا تھا کہ جس دن قومی اسمبلی پر مشتمل خصوصی کمیٹی بنے کا اعلان ہوا نیز یہ کہ کاروائی خفیہ ہوگی۔اس اعلان پر تشویش ہوئی۔اور ساری رات دعا کی کہ اے خدا خفیہ اجلاس ہے۔پتہ نہیں ہمارے خلاف کیا تدبیر کی جائے۔سورۃ فاتحہ پڑھی اور اھدنا الصراط المستقیم بہت پڑھا۔صبح خدا تعالیٰ نے بڑے پیار سے دو الہامات کئے۔( الفضل ربوہ 11 دسمبر 1974ء صفحہ 6) ایک الہام یہ تھا کہ وَسِعُ مَكَانَكَ یعنی آنے والے اب کثرت سے آنے والے ہیں۔