اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 408
408 عُقبها۔حضور نے فرمایا کہ اس کے بعد میں نے خدا تعالیٰ سے بہت دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تو ان کو ہدایت دے اور تباہی سے بچالے۔حضور فرماتے ہیں اس پر پھر یہ آیت الہام ہوئی۔حضور فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے اور زیادہ الحاج سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو تباہی سے بچادے اور ہدایت دے۔اس پر تیسری دفعہ یہی آیات الہام ہوئیں۔والسلام خاکسار منیر احمد بسمل یہ بیان مکرم سهل صاحب نے 21 اکتوبر 1997ء کو دیا ہے۔کارروائی کے دوران تائیدات الہی حافظ محمد نصر اللہ صاحب : مولانا ! جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے اور دعویٰ ہے کہ ہمارا زندہ خدا کے ساتھ ایک تعلق ہے اور اس کے تائیدی معجزات اور نشانات ہمارے شامل حال ہیں ہمیشہ سے۔تو اس اسمبلی کی کارروائی کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے نشانات ظاہر ہوتے رہے جن میں سے کچھ آپ نے بیان فرمائے کچھ مزید نشانات کا تذکرہ آپ فرمائیں گے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب: مختصر ا میں اس سلسلہ میں یہ عرض کروں گا کہجبکہ سب آپ اُس ماحول کو اپنے سامنے رکھیں جبکہ سب دشمنان احمدیت سرکاری سطح پر متحدہ محاذ قائم کئے ہوئے تھے اور استعماری طاقتیں ان کی پشت پناہی کر رہی تھیں۔سعودی عرب کا ہاتھ کارفرما تھا اور یہ خیال اور تصور بھی نہیں تھا کہ کیا کیا سوالات اسمبلی میں پوچھے جائیں گے۔اس ماحول میں آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنے وسیع پیمانے پر جماعت کو اپنے دفاع کے لئے تیاری کی ضرورت ہو گی۔اپنی بساط کے لحاظ سے اور ان واقعات کے لحاظ سے۔حضور کے ارشاد پر میں قریباً ایک ہزار کتب خلافت لائبریری ربوہ سے لے کر گیا تھا۔کچھ میری اپنی کتا بیں تھیں۔مگر یہ سارے کام اللہ ہی کے تو کل پر کئے جارہے تھے اور جو انتخاب کیا گیا تو یہ کسی نے نہیں بتایا تھا کہ یہ کتابیں منتخب ہونی چاہئیں۔یہ اللہ تعالیٰ نے اس و قت مجھے جو راہنمائی فرمائی اس کے مطابق میں نے وہ کتابیں چن لیں اور ساتھ لے گیا۔لیکن اس کے بعد ایک موقعہ ایسا آیا کہ اس میں شیعوں کی بعض کتابوں کا پیش کرنا مقصود تھا