اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 386 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 386

386 جنہیں حقیر سمجھ کے بجھا دیا تو نے وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی یہ عجیب اتفاق تھا۔مجھے راولپنڈی کے ایک بزرگ نے بتایا کہ فیصلے کے اگلے دن ایک اہلحدیث عالم نے لاؤڈ سپیکر پر یہ اعلان کیا کہ مسلمانو! تمہیں ہوش آنا چاہئے۔اس فیصلے نے تمام مسلمانوں کو کا فرقرار دیا ہے۔ہم لوگ جو مسیح کے دوبارہ آنے کے قائل ہیں ، اس فیصلے کی رو سے ہم بھی دائرہ اسلام سے خارج کر دیئے گئے۔مگر عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ملاؤں نے اور پھر چونکہ بھٹو پارٹی بھی دراصل بظا ہر دنیا کو ڈپلو میٹک (Diplomatic) طریقے سے سمجھانا چاہتی تھی کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے عوام کی مرضی کے مطابق کیا ہے اس لئے عیسائی دنیا کو اور یورپ کو اور امریکہ کو ایسا نہیں کہنا چاہئے کہ قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ہم نے جمہوری قانون اختیار کیا ہے۔عوام کا فیصلہ تھا۔لیکن دراصل جہاں تک دشمنی کا تعلق تھا بھٹو صاحب کو اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے اپنے دل میں جماعت سے ان سے زیادہ بغض تھا۔اس لئے باوجود یہ الفاظ ر کھنے کے دنیا کو دکھانے کے لحاظ سے اعلان یہی کیا گیا اور ملاؤں نے کہا ، بس جی ہماری نگاہ میں تو پہلے ہی اسلام کے دائرہ سے خارج تھے، اب قانونا بھی ثابت کر دیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ”مرزائیوں“ کو خارج کر دیا گیا ہے۔حالانکہ اگر یہ بات تھی اور عوام کو تو اس کی طرف توجہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ملاں اس کو کارنامے کے طور پر پیش کر رہا تھا۔اگر یہ بتاتا کہ اس سے تو خود ہماری اس معاملے میں جو ساری عمر کی کمائی ہے وہ ختم ہوگئی ہے۔ہمیں بھی غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔تو یہ ان کی اپنی بدنامی ہوتی۔اس واسطے انہوں نے یہی سوچا کہ For The Purpose Of Constitution کے یہی معنی دئے جائیں۔مجھے ایک واقعہ یاد آیا کہ گیانی واحد حسین صاحب مرحوم اور میں ایک جگہ ہم سفر تھے۔کہنے لگے کہ پانی پت کرنال میں ایک نوجوان جاٹ تھا۔اس کی شادی ہوئی۔وہاں شادی کے وقت ہندو جاٹ یہ تو خطبہ نکاح نہیں پڑھتے جو محمد عربی ﷺ نے امت کو سکھایا ہے۔ان کے ہاں یہ ہے کہ وہ چھوٹی سی تلوار دولہا میاں کو دے دیتے ہیں اور دولہا میاں صرف یہ اعلان کرتا ہے کہ میں اس تلوار کے