اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 385 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 385

385 تمام معاندین احمدیت کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول وہ ہوتا ہے جو کہ شریعت لے کر آئے مگر نبی کے لئے شریعت کا لانا ضروری نہیں۔اس لئے وہ کہتے ہیں کہ شریعت لانے والے رسول جو تھے وہ چار تھے۔باقی وہ تھے جو کہ نبی تھے اور نبی وہ ہوتے ہیں جو کہ پہلی شریعت کو قائم کرنے والے ہوتے ہیں۔یہ فرق ہے ان کی نگاہ میں نبی کا اور رسول کا۔اس پر بنیاد رکھتے ہیں یہ تمام نام نہاد ( Socalled ) محافظین ختم نبوت کی۔یہ ان کا عقیدہ ہے۔بابی دنیا اور امر بہائی کے علمبردار ڈنکے کی چوٹ مولویوں سے کہتے ہیں کہ تم تو عیسی کو آخری نبی مانتے ہو کیونکہ ان کے بعد نہ کوئی نیا نبی آئے گا نہ کوئی پرانا آئے گا۔محفوظ الحق علمی کی کتا ہیں آپ پڑھیں۔اس میں کھلے لفظوں میں ، ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا گیا ہے اور آج تک کسی ملاں کو اس کا جواب دینے کی توفیق نہیں ملی۔وہ کہتے ہیں کہ تمہاری نگاہ میں نبی وہ ہے جو نئی شریعت نہیں لاتا اور رسول وہ ہے جونئی شریعت لے کے آتا ہے۔قرآن نے خاتم المرسلین نہیں کہا۔نہ خاتم الرسل کا خطاب دیا ہے۔وہاں پر خاتم النبین قرار دیا ہے اور اس کے معنی یہ ہوئے کہ اب کوئی نبی ایسا نہیں آسکتا جو محمد رسول اللہ کی شریعت کا تابع ہو کر آئے۔اب ختم رسولوں کو نہیں کیا یعنی نئی شریعت لانے والوں کو بلکہ نبیوں کوختم کیا ہے اور ملاں کی نگاہ میں نبی وہ ہوتا ہے جو پہلی شریعت کی اتباع کرے اور رسول وہ ہے جو نئی شریعت لے کر آئے۔اس واسطے آخری نبی ہم رسول اللہ کو مانتے ہیں تو اس فیصلے کی رُو سے اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو سوائے پرویزیوں کے اور سوائے ہابیوں اور بہائیوں کے خود ان کے اپنے عقیدے کے مطابق کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر مشروط آخری نبی نہیں مانتا۔لیکن چالا کی اور عیاری یہ کی گئی کہ For The Purpose Of Constitution کے الفاظ رکھے گئے۔تو پہلے ہی چونکہ مشتعل کر دیا گیا تھا۔کسی شخص کو اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ لکھا کیا تھا۔لیکن اس وقت ہی ہم نے یہ سنا، جب یہ فیصلے ہوئے۔چند دن کے بعد میں گیا ہوں۔تو وہاں مجھے ایک تو اتفاق یہ ہوا کہ چوہدری رحمت علی صاحب کے ساتھ جارہا تھا تو جس بس پر تھے اس کے اوپر لکھا ہوا تھا۔؎