اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 387 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 387

387 ذریعہ سے اپنی بیوی کی حفاظت کروں گا۔استری کا لفظ عام طور پر بیوی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ادھر اس نے یہ اعلان کیا۔شادی ہو گئی۔تیسرے دن آدھی رات کے وقت ڈا کو آئے۔انہوں نے گن پوائنٹ (Gun Point) پر اس کی بیوی جو سونا چاندی جہیز میں لے کر آئی تھی وہ نکلوا کے کہا کہ سر کے اوپر رکھو اور دوڑا دوڑا کے آخر جنگل میں جب پہنچے تو انہوں نے کہا یہاں رکھ دو اور چلے جاؤ۔جب واپس آیا تو سارے محلے میں کہرام مچا ہوا تھا۔لوگوں نے کہا کچھ شرم کرو کل تم نے کیا کہا تھا کہ تلوار کے ذریعہ سے میں رکھشا کروں گا اپنی استری کی ، اور آج تم یہ چاندی اور سونا سارا دے آئے ہو اور حتی کہ وہ جس بکس میں تھا وہ بھی تم دے آئے۔سب کچھ وہ سنتا رہا پھر کہنے لگا کہ یہ کہنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے کہ سونا چاندی تو میں دے آیا ہوں۔لیکن میں نے بھی ایسی ضرب کاری لگائی ہے کہ یاد کریں گے کہ کسی سے واسطہ پڑا تھا۔کہنے لگے اچھا! تم نے کیا کارنامہ دکھایا ہے۔کہنے لگا کہ وہاں ڈاکوؤں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ سونا کتنا ہے اس کے اندر۔ایک سیر تھا، میں نے بھی چھٹانک ہی بتایا ہے۔چاندی پانچ سیر تھی میں نے کہا ایک سیر ہے۔ایسی ضرب کاری لگائی ہے یا درکھیں گے کیا ہوا !! تو یہ کیفیت اس ملاں کی ہے۔اگر تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو اس قرار داد کے مطابق سوائے پر دیزیوں کے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں بابیوں کے کوئی بھی مسلمان نہیں تھا۔اور اگر For The Purpose Of Constitution سے مراد یہ تھی کہ حلف اٹھانے کے لحاظ سے صدر اور وزیر اعظم پابند ہیں کہ وہ کہیں کہ میں غیر مشروط آخری نبی آنحضور ﷺ کو مانتا ہوں۔تو یہ قانون صرف یہ بتاتا ہے قانونی اغراض کے لحاظ سے کہ اگر احمدیوں کی اکثریت بھی ہو جائے پارلیمنٹ میں تو اس قانون کی رو سے وہ وزیر اعظم بن سکتے ہیں نہ صدر بن سکتے ہیں۔لیکن اگر اس کو چھوڑ دیں آپ تو پھر سارے کا سارا قصہ یہی بنتا ہے کہ دین محمد کے دشمن جو کہ رسول اللہ ﷺ کی شریعت کو منسوخ کر کے نئی شریعت کے مدعی ہیں، نئے دین کے مدعی ہیں۔بلکہ وہ کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ۔اب دور محمد ختم ہو گیا، اب دور بہائیت ہے قیامت تک کے لئے “ وہ مسلمان ہیں