اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 366 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 366

366 فرماتے ہیں کہ ساری تاریخ میں۔۔۔۔66 یعنی صحابہ نے بھی کوئی اجماع نہیں کیا۔تابعین میں بھی کوئی پیدا نہیں ہوا۔اگر اجماع ہوا تو بھٹو صاحب اور ان کے پرستاروں کی بدولت ہوا۔کیونکہ اوپر حکومت کے فیصلہ کا تذکرہ ہے۔علماء کی بات تو آگے آرہی ہے۔کہتے ہیں کہ یہ سہرہ جو ہے اسلام کی پوری تاریخ میں صحابہ سے لے کر آج تک، یہ بھٹو حکومت کے سر چڑھا ہے۔کتنے گستاخانہ الفاظ ہیں!! آگے فرماتے ہیں کہ اجماع امت میں ملک کے سب، بڑے سے بڑے علمائے دین اور حاملان شرع متین کے علاوہ تمام سیاسی لیڈر اور ہر گروپ کے سیاسی راہنما کماحقہ متفق ہوئے ہیں اور صوفیائے کرام اور عارفین باللہ برگزیدگان تصوف و طریقت کو بھی پورا پورا اتفاق ہوا ہے۔“ یہ الفاظ میں پہلے سنا دیتا ہوں۔پھر ایک دوامور کی طرف اشارہ کروں گا۔قادیانی فرقہ کو چھوڑ کر جو بھی بہتر (۷۲) فرقے مسلمانوں کے بتائے جاتے ہیں۔سب کے سب اس مسئلہ کے اس حل پر متفق اور خوش ہیں۔زعمائے ملت اور عمائدین کا کوئی طبقہ نظر نہیں آتا جو اس فیصلہ پر خوشگوار رد عمل نہ رکھتا ہو۔“ یہ تبصرہ کس کا ہے؟ نوائے وقت کے مقالہ نگار کا۔کہتے ہیں کہ سوائے بھٹو صاحب کے اجماع امت کے صحابہ سے لے کر آج تک اجماع ہی کسی مسئلہ پر نہیں ہوا۔اور اجماع کرنے والے مولوی تھے۔میں بتا چکا ہوں جن میں سے کوئی مولوی کسی کو مسلمان نہیں سمجھتا۔اب آپ بتائیں کہ آنحضور نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہو گیا ہے۔بلکہ فرمایا ہے:۔مَنْ رَمَى مُؤْمِن بِكُفْرِفَهُوَ كَقَتْلِه (صحیح بخاری کتاب الايمان والنذور باب من حلف بملة سواملة الاسلام) جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو کفر کی طرف منسوب کرتا ہے وہ در اصل اس کا قاتل ہے۔تو یہ قاتل تھے محمد عربی ﷺ کے کروڑوں عشاق کے۔اور اس کی وجہ جو کہتے