اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 367
367 ہیں کہ علماء متفق ہیں۔علماء وہ ہیں جو اصل میں میں بتا چکا ہوں۔جو کسی کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔بڑی بڑی بحثیں ہوئیں۔اجتماع ہوئے۔نماز کا وقت ہوا تو بریلوی الگ ہو گئے۔مودودی الگ ہو گئے۔دیو بندی بالکل الگ ہو گئے۔تو مجھے بتائیں کہ وہ لوگ جو آنحضرت علی کے فتوے کے مطابق خود کا فر ہو گئے تو بہتر (۷۲) کا فرا گر ا کٹھے ہو جائیں تو وہ مسلمان اور مسلمانوں کے پیشوا بن جاتے ہیں اور وہ اجماع امت قرار پاتے ہیں۔آخر کچھ تو خدا کا خوف کرنا چاہئے! دنیا اتنی اندھی نہیں ہے۔بہتر (۷۲) قسم کے کافروں کا اجماع کفر کا اجماع ہوسکتا ہے، اسلام کا اجماع نہیں ہوسکتا۔یہ کتنی واضح بات ہے۔ماہنامہ طلوع اسلام ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: "طلوع اسلام کا کیا تبصرہ تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب : مدیر طلوع اسلام نے لکھا۔اس مسئلہ کے متعلق حکومت نے کہا ہے کہ اسے عوام کے مطالبہ 66 کے مطابق حل کیا گیا ہے۔یہ نہیں کہا گیا ہے کہ یہ اسلام کا تقاضا ہے۔“ الطاف حسن قریشی صاحب (طلوع اسلام لا ہور نومبر 1974 ءصفحہ 6) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔الطاف حسن قریشی صاحب مدیر اردو ڈائجسٹ کا بھی آپ نے ذکر کرتا ہے۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔ہاں الطاف حسن صاحب قریشی نے بھی اردو ڈائجسٹ دسمبر 1975ء صفحہ 57 میں یہی بات لکھی کہ حیرت کی بات ہے کہ اتنے مراحل سے گذرنے کے بعد تمام قانون پاس ہوتے ہیں۔بڑی پابندیاں ہوتی ہیں۔اس واسطے کہ کروڑوں انسانوں کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے کسی قانون کے ساتھ۔سب کمیٹیاں بنتی ہیں پھر ریزولوشن کو ڈکٹیٹ (Dictate) کرایا جاتا ہے۔پھر اس کے بعد سب کمیٹیوں میں معاملہ جاتا ہے۔کبھی کسی ایک لفظ پر بحث ہوتی ہے۔کبھی دوسرے پر بحث ہوتی ہے۔اور پھر اس کے بعد وہ قومی اسمبلی میں جاتا ہے پھر وہاں پر جا کر